رسائی کے لنکس

نقیب اللہ قتل کیس کے گواہ منحرف، کیس پر کیا اثر پڑے گا؟


نقیب اللہ محسود (فائل فوٹو)

نقیب اللہ محسود قتل کیس کے دو اہم گواہان کے منحرف ہونے کے بعد قانونی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی اُمید دم توڑتی جا رہی ہے۔

نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں کراچی میں تین ساتھیوں کے ہمراہ مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ واقعے کے عینی شاہد پولیس اہلکاروں سب انسپکٹر رانا آصف اور کانسٹیبل شہزادہ جہانگیر نے منگل کو عدالت میں پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیان سے انحراف کیا تھا۔

مذکورہ اہلکاروں نے پہلے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نقیب اللہ اور اس کے ساتھیوں کو غیر قانونی طور پر اغوا کر کے قتل کیا گیا۔

مبینہ طور پر اس جعلی پولیس مقابلے کا الزام اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر لگا تھا۔

مقدمے میں مدعی کے وکیل صلاح الدین پنہور ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ شروع دن سے ان خدشات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ اُن کے بقول اس سلسلے میں عدالتوں میں درخواستیں بھی دی گئی تھیں کہ اس اہم کیس میں ملزمان کے انتہائی بااثر ہونے کی وجہ سے گواہوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ان پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ وہ اپنے بیانات سے ییچھے ہٹ جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے ملزمان جن کے خلاف ماورائے عدالت قتل کے سیکڑوں کیسز سامنے آئے ہیں ان ملزمان کا اثر و رسوخ بھی بے حد زیادہ ہے۔ ایسے میں گواہی دینا کوئی آسان کام نہیں۔

صلاح الدین پنہور کے بقول عدالتی احکامات کے باوجود گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا جس کا نتیجہ ان کے بیانات سے انحراف کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

'جب گواہ منحرف ہوجائیں تو سمجھیں کیس کمزور پڑ گیا'

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کیس میں سرکاری گواہوں کے منحرف ہونے سے ایک جانب جہاں کیس کمزور پڑ جاتا ہے تو دوسری جانب اس کا براہ راست فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے۔

ماہر قانون شوکت حیات ایڈوکیٹ کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کریمنل جسٹس سسٹم میں عدالتیں گواہوں کے بیانات کی روشنی میں فیصلے سناتی ہیں۔

اُن کے بقول ایک جانب گواہ کا سچا، عدالتوں سے سزا یافتہ نہ ہونا اور اس کی کیس سے مطابقت ضروری ہے تو وہیں واقعاتی شواہد اور فرانزک ثبوت گواہوں کی شہادتوں کو تقویت دیتے ہیں جس سے ملزمان کے خلاف کیس ثابت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

شوکت حیات کہتے ہیں کہ اگر گواہ ہی شہادت سے مکر جائیں تو پھر کیس پر اس کا منفی اثر پڑسکتا ہے۔ اُن کے بقول آج کل کی دنیا میں ایسے ثبوت مثلاً کال ڈیٹا ریکارڈ، جیو فینسنگ کے ذریعے معلومات کا حصول، ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور اس طرح کے دیگر شواہد کی اہمیت اپنی جگہ پر برقرار ہے جسے سخت معیارات پر پرکھا بھی جانا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار عدالت پر ہے کہ وہ ان واقعاتی شواہد کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔

شوکت حیات ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ پولیس کا کام عدالت کے سامنے ثبوت اکھٹے کرکے دینا ہوتا ہے، عدالت محض ان شواہد پر فیصلہ نہیں سناتی جو ثبوت پولیس نے پیش کیے ہوں بلکہ مقدمے کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے شواہد کو بھی پرکھا جاتا ہے۔

اُن کے بقول گواہوں کے بیانات عدالت مین بھی ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔ اگر پولیس کے خیال میں کسی ملزم نے کیس ثابت کرنے کے لیے کلیدی بیان ریکارڈ کرایا ہے تو فوری طور پر اس کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بھی ریکارڈ کرایا جانا چاہیے تاکہ ٹرائل کے دوران گواہ اپنے بیان سے مکر نہ جائے، بصورت دیگر کیس کمزور پڑ سکتا ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کے کارکن اور ادارے بھی نقیب اللہ کیس میں مختلف شکوک شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

نقیب اللہ قتل کیس کس مرحلے پر ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں عدالتی کارروائی بھی سست روی کا شکار ہے۔ مارچ 2019 میں اس کیس میں گرفتار اور ضمانت پر رہا ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا مگر اب تک 92 گواہوں میں سے صرف آٹھ کی شہادتیں ریکارڈ کی جا سکی ہیں۔

کیس میں مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت تقریباً پانچ ماہ سے نہیں ہو سکی ہے۔ کیس میں کل چھ ملزمان ضمانت پر اور 13 جیل میں قید ہیں۔ اسی کیس میں سات دیگر پولیس اہل کار مفرور بھی ہیں جنہیں واقعے کے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانےکے بعد بھی پولیس گرفتار کرنے سے قاصر ہے۔

پاکستانی قوانین کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت کو کیس کا فیصلہ سات روز کے اندر کرنا ہوتا ہے۔ لیکن تفتیشی نظام کی کمزوری، شواہد کی تلاش، پولیس کے غیر پیشہ ورانہ رویے، مقدمات کی بھرمار کے باعث اکثر و اوقات فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔

سابق ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کے ساتھیوں پر قتل، اغوا، دھماکہ خیز مواد رکھنے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

جنوری 2018 میں پولیس پارٹی نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود سمیت چار ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ملزمان کو کالعدم جماعت کے اہم کارندے قرار دیا تھا لیکن بعد میں پولیس ہی کی نگرانی میں ہونے والی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا بلکہ راؤ انوار کو 444 ماورائے عدالت قتل کا بھی ذمہ دار ٹھیرایا گیا تھا۔۔

واقعے پر سوشل میڈیا پر بھی بے حد تنقید کی گئی جس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس پر از خود نوٹس لیا تھا جب کہ اس کا مقدمہ پولیس پارٹی کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت درج کیا گیا تھا۔

شروع میں مرکزی ملزم اور سندھ پولیس کے سابق ایس ایس پی راؤ انوار تین ماہ تک مفرور رہے تھے۔ تاہم مارچ 2018 میں راؤ انوار نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا جس کے بعد راؤ انوار سمیت تمام ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق راؤ انوار کو بعض ریاستی اداروں اور سیاست دانوں کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی زبردست مدد حاصل ہے اور یہی وجہ تھی کہ انہیں 'سیکورٹی خدشات' کے باعث گھر میں ہی سب جیل قرار دے کر 'قید' رکھا گیا تھا۔

تاہم انسداد دہشت گردی عدالت نے بعد میں انہیں ضمانت پر رہائی دے دی تھی۔ البتہ راؤ انوار اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں جاری کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ "اگر کسی جرائم پیشہ شخص سے میرا تعلق ثابت ہوجائے تو مجھے چوراہے پر کھڑا کر کے گولی مار دی جائے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG