رسائی کے لنکس

بھارت معاشی ترقی کے سفر سے اب زوال کی جانب گامزن ہے: منموہن


سابق بھارتی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ نئی دہلی فسادات اور مذہبی عدم برداشت کے رویوں نے بھارت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات میں 40 سے زائد افراد کی ہلاکت کا معاملہ بھارت میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بھارت کے سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے بھی ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارت کے اخبار 'دی ہندو' میں سابق بھارتی وزیرِ اعظم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ جس میں سابق وزیرِ اعظم اور ماہر معیشت منموہن سنگھ نے فسادات اور معاشرتی تناؤ کو ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

منموہن سنگھ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہیں۔ اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا کہ معاشی عدم استحکام اور عالمی سطح پر وبائی مرض (کرونا وائرس) کے باعث بھی بھارتی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم کو صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا کہ وہ ان خطرات سے آگاہ ہیں۔

منموہن سنگھ کے بقول وہ بہت بوجھل دل سے یہ سب لکھ رہے ہیں کہ ان خطرات سے جمہوری اور بڑی معیشت کی حیثیت سے ہماری پہچان متاثر ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ منموہن سنگھ 2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیرِ اعظم رہے۔

بھارت میں گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمان کی جانب سے منظور کیے گئے شہریت بل کے بعد ہونے والے مظاہروں سے حالات کشیدہ ہیں۔ ان مظاہروں نے پورے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارتی پارلیمان نے دسمبر 2019 میں شہریت بل قانون منظور کیا تھا۔ جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہب کی بنیاد پر جبر کے شکار افراد کو بھارت کی شہریت دینے کی منظوری دی گئی تھی۔

نئی دہلی فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
نئی دہلی فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

علاوہ ازیں بھارتی حکومت نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے ذریعے ملک بھر میں شہریوں کی از سرِ نو شناخت کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ریاست آسام میں اس پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔ بھارتی حکومت ان اقدامات کو قومی مفاد میں قرار دیتی رہی ہے۔

اِن اقدامات کے باعث بھارت کے مختلف طبقات اور مسلمانوں کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فروری کے آخری ہفتے میں ہونے والے فسادات کے باعث صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں ہونے والے ان فسادات میں 40 سے زائد افراد ہلاک جب کہ املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

منموہن سنگھ کا ان فسادات پر کہنا تھا کہ مذہبی عدم برداشت، قانون سے بالاتر طبقات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا غیر فعال ہونا اور میڈیا کا منفی کردار ریاست کو ناکام کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ بہت تھوڑے عرصے میں ہی بھارت معاشی ترقی کے سفر سے اب زوال کی جانب گامزن ہے۔ اس کا حل اب یہی ہے کہ معاشرتی تناؤ اور عدم برداشت کی آگ بڑھانے والے ہی اب سے بجھائیں۔

انڈین نیشنل کانگریس نے بھارت کی موجودہ صورتِ حال کو پریشان کن قرار دیا تھا۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے نئی دہلی کے فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

ناقدین کا یہ الزام ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت انتہا پسند نظریات کی حامل ہے۔ خاص طور پر مسلمان تنظیمیں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

البتہ، بھارتی حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ بھارت کے بہتر مستقبل اور فلاح و بہبود کے لیے ملکی مفاد میں فیصلے کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG