رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو وزرا افغان جنگ جاری رکھنے کے عزم پر قائم


پندرہ سال قبل نیٹو نے افغانستان میں بین الاقوامی سکیورٹی فراہم کرنے کا کام سنبھالا، لیکن ایک سینئر امریکی جنرل نے حالیہ دِنوں متنبہ کیا کہ ہلاکتیں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژاں اسٹوٹنبرگ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد افغانستان میں امن کی بحالی کے عزم پر قائم ہے، باوجود اس بات کے کہ افغان ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ امن بات چیت کے آغاز میں بارہا تاخیر ہو چکی ہے۔

برسلز میں نیٹو وزرا کے دو روزہ اجلاس کے بعد بدھ کو اسٹولٹنبرگ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم سبھی نے افغانستان کی طویل مدتی سلامتی اور اتحکام کے عزم کا اعادہ کیا‘‘۔

پندرہ سال قبل نیٹو نے افغانستان میں بین الاقوامی سکیورٹی فراہم کرنے کا کام سنبھالا، لیکن ایک سینئر امریکی جنرل نے حالیہ دِنوں متنبہ کیا کہ ہلاکتیں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل کینتھ مکینزی نے، جنھیں افغان لڑائی کی نگرانی کے لیے امریکی افواج کی کمان سنبھالنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، اس ہفتے کے اوائل میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو بتایا کہ ابھی تک افغان افواج طالبان کو ناکارہ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

طالبان نے، جو سنی بنیاد پرست سیاسی تحریک ہے، حالیہ دِنوں کے دوران کافی زور دکھایا ہے، جن کی اس وقت افغانستان میں تعداد تقریباً 60000 ہے۔ نیٹو کی ملک میں 16000 فوج تعینات ہے، جس کا کام مشاورت اور مقامی افواج کی مدد کرنا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ جب 2014ء حکومت نے نیٹو کا کنٹرول اپنے ذمے لیا، اب تک مقامی فوج کے تقریباً 30000 اہل کار ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ اس سے قبل اموات کی تعداد کم بتائی جاتی تھی۔

اسٹولٹنبرگ نے آئندہ سال کے صدارتی انتخابات سے پہلے انتخابی عمل میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا، ’’چونکہ کامیاب انتخابات افغانستان کے استحکام اور امن کی جانب راستے کو مضبوط بنائیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG