رسائی کے لنکس

نااہلی کے فیصلے پر عدالت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، نواز شریف


Nawaz Sharif Speaks to Media Outside Islamabad Court

نوازشریف کا کہنا تھا کہ اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں اور گزشتہ روز جج صاحب کے ریمارکس سب کے سامنے ہیں۔

علی رانا

پانامہ کیس میں مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عدالت کے اندر سے بھی میری نااہلی سے متعلق آوازیں آ رہی ہیں، نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف بولنا میرا اور میری پارٹی کا حق ہے۔

نوز شریف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاناما میں کیس تو لندن فلیٹ کا تھا، نااہل اقامہ پر کر دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں کہاں طے ہوا کہ غلط کوئی بھی ہو نااہلی ہونی چاہیے، غلطی پر نااہلی ہوگی، کیا پاناما کیس کے مطابق سخت ذمہ داری کا اصول وضع کیا گیا ہے، کیا پاناما کیس کے اصولوں کا إطلاق سب پر نہیں ہوگا؟

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے اندر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں اداروں کی عزت کرنے والا انسان ہوں لیکن میرے خلاف جو فیصلہ آیا وہ میری اور قوم کی نظر میں ٹھیک نہیں تھا۔ میرے خلاف بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لے کر فیصلہ لکھا گیا۔ اب میرے خلاف توہین عدالت کیس میں فل بینچ بنا دیا گیا ہے۔ عوام کی توہین ہوئی ہے وہ اپنی توہین کہاں فائل کریں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں۔ گزشتہ روز جج صاحب کے ریمارکس سب کے سامنے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس پاناما کا تھا اور نااہلی اقامہ پر کی گئی، جنہوں نے مجھے اقامے پر نکالا انہوں نے نیب ریفرنس بھی بناکر بھیجے۔ فیصلے دینے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ قوم کو ان کے فیصلے تسلیم نہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان نے اقبال جرم کیا پھر بھی صادق اور امین ٹھہرے۔ عمران خان غلطی تسلیم کررہے تھے لیکن عدالت نے کہا کہ اس طرف نہ جائیں۔ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل کیا لیکن اس پر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنائی۔ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کے خلاف نیب ریفرنسز دائر کرنے کا بھی نہیں کہا ۔ یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا۔ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہورہے۔ سو دن چور کے تو ایک دن سنار کا ہوتا ہے۔ اللہ کرے گا سنار کا دن بھی آئے گا۔

نواز شریف نے شیخ رشید کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو سب پر باتیں کررہے تھے ان کا اپنا کیس سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے کروڑوں روپے کی زمین چھپائی۔

دوسری جانب پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق اقامہ اور معاہدہ عدالت میں پیش کردیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیزریفرنس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور نواز شریف کے بچوں حسین نو ازاور مریم نواز کے درمیان معاہدے کا خط، آف شورکمپنیوں سے متعلق فلوچارٹ، مختلف کمپنیوں کے مابین لین دین اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ، نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ، متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کا جوابی خط اور رابرٹ ریڈلی کی فرانزک رپورٹ سمیت نوازشریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ اور معاہدہ بھی عدالت میں پیش کیا۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دستاویزات پر اعتراض اٹھایا کہ جبل علی فری زون اتھارٹی کی دستاویزات نوٹری پبلک، قونصل خانہ اور ڈپلومیٹک ایجنٹ سے تصدیق شدہ نہیں، اس لئے قانون شہادت کے تحت دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں نواز شریف، ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، مریم نواز سمیت داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔کیسز کے لیے چھ ماہ کا دیا وقت مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے نوازشریف کیسز کے لیے دو ماہ جبکہ اسحاق ڈار کے خلاف دائر ریفرنسز کے لیے تین ماہ کا اضافی وقت دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG