رسائی کے لنکس

logo-print

منی لانڈرنگ کا الزام: نواز شریف نے چیئرمین نیب کو نوٹس بھیج دیے


چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال (فائل فوٹو)

نوٹسز میں خبردار کیا گیا ہے کہ معافی نہ مانگنے اور ہرجانہ ادا نہ کرنے پر چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت رقم منتقل کرنے کا الزام عائد کرنے پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو دو قانونی نوٹس بھیج دیے ہیں۔

دونوں نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب اپنے اس الزام پر معافی مانگیں یا پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ قانونی نوٹسز میں یہ بھی لکھا ہے کہ نواز شریف پر چیئرمین نیب کے الزامات قبل از انتخابات دھاندلی ہیں۔

ان نوٹسز میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین نیب پاکستان میں چھپنے والے انگریزی اور اردو کے اخبارات میں باقاعدہ معافی نامہ شائع کرائیں اور ہرجانے کے طور پر ایک ارب روپے ادا کریں۔

نواز شریف نے یہ قانونی نوٹسز اپنے وکلا اے کے ڈوگر اور منور اقبال کے ذریعے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھجوائے ہیں۔

نوٹسز میں خبردار کیا گیا ہے کہ معافی نہ مانگنے اور ہرجانہ ادا نہ کرنے پر چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے رواں ماہ کے اوائل میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر 4.9 ارب ڈالر بھارت بھیجنے کی
میڈیا رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ورلڈ بینک نے وضاحتیں دی تھیں کہ رقوم کی ایسی کوئی منتقلی اُن کے علم میں نہیں۔

نیب چیئرمین کی جانب سے تحقیقات کے اس حکم پر حکمران جماعت کے رہنماؤں نے کڑی تنقید کی تھی جب کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نیب چیئرمین کو ایوان میں طلب کرکے ان سے وضاحت مانگے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG