رسائی کے لنکس

logo-print

شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت 9 جنوری تک ملتوی


عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے استغاثہ کے پانچ گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کردیے ہیں جب کہ بدھ کو سماعت کے دوران دو گواہوں پر جرح مکمل کرکے بیان قلم بند کیا گیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے اہلی خانہ کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کی سماعت 9 جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے استغاثہ کے پانچ گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کردیے ہیں جب کہ بدھ کو سماعت کے دوران دو گواہوں پر جرح مکمل کرکے بیان قلم بند کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں دائر تین مختلف ریفرنسز کی بدھ کو سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر بعد میں عدالت پہنچے۔

احتساب عدالت میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 11 مرتبہ، مریم نواز 13 اور کیپٹن (ر) صفدر 15 مرتبہ پیش ہوچکے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم نے اپنا بیان قلم بند کرایا جب کہ نواز خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ پر جرح کی۔

گواہ محمد تسلیم نے بتایا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو فضا بتول کے حکم پر وہ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوا اور نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کا ویلتھ ٹیکس ریکارڈ جمع کرایا۔

نواز خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی کہ کیا ریکارڈ کی تصدیق آپ کے سامنے ہوئی؟ گواہ محمد تسلیم نے بتایا کہ فضا بتول نے میرے سامنے ریکارڈ کی تصدیق نہیں کی۔ فضا بتول ابھی تک کمشنر ان لینڈ ریونیو کے عہدے پر تعینات ہیں۔ تفتیشی افسر نے فضا بتول سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا۔

العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات بھی عدالت میں جمع کرائی گئیں اور استغاثہ کے گواہ یاسر شبیر نے اپنا بیان قلم بند کرایا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب منظور خان نے بیان ریکارڈ کرایا جس کے بعد نواز خاندان کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے جرح کی۔

گواہ نے بتایا کہ ایس ای سی پی کی افسر سدرہ منصور نے پیش ہو کر حدیبیہ پیپر ملز کی آڈٹ رپورٹ فراہم کی۔ ریکارڈ تفتیشی افسر نے میری موجودگی میں تحویل میں لیا۔ میں نے بطور گواہ ریکارڈ پر دستخط کیے۔ تفتیشی افسر کے سامنے 6 ستمبر 2017 کو پیش ہوا۔ کلرک محمد رشید نے 11 صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائیں۔ چار صفحات پر مشتمل لندن کوئین بینچ کا حکم نامہ بھی جمع کرایا گیا۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز پر سماعت نو جنوری تک ملتوی کردی اور استغاثہ کے پانچ گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلبی کے سمن جاری کردیے۔ گواہان میں محمد زبیر، عمر دراز، سدرہ منصور، عزیز ریحان اور محمد عزیر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جب کہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG