رسائی کے لنکس

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وطن واپس پہنچنے کے فوری بعد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی سیاسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف پیر کی صبح لندن سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

اُنھیں 26 ستمبر یعنی منگل کو احتساب عدالت نے طلب کر رکھا ہے۔

نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز علیل ہیں اور اُن کے گلے کے سرطان کا علاج لندن میں ہو رہا ہے۔ سابق وزیراعظم کلثوم نواز کے علاج اور تیماری داری کے لیے ہی لندن گئے تھے۔

لندن سے روانگی سے پہلے نواز شریف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر گفتگو میں کہا تھا کہ اُنھوں نے کسی طرح کی بدعنوانی نہیں کی اور اُن کے بقول اگر ایسا ہوتا تو پاناما دستاویزات کے تحت چلائے گئے مقدمے میں اُنھیں سزا دی جاتی۔

نواز شریف جب پیر کی صبح اسلام آباد پہنچے تو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اُن کا استقبال کیا۔ اس موقع بے نظیر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وطن واپس پہنچنے کے فوری بعد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی سیاسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جب کہ عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کے بیرونِ ملک مبینہ اثاثوں سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کو چھ ہفتوں میں ریفرنس دائر کرنے اور تمام مواد احتساب عدالت کو بھیجنے کا بھی حکم دیا تھا۔

نواز شریف اور اُن کے بیٹوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی تھی لیکن اُسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

نواز شریف اور اُن کے بیٹوں کے خلاف قومی احتساب بیورو نے عزیزیہ اسٹیل ملز، لندن میں جائیداد اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق تین ریفرنس دائر کیے ہیں، جس میں عدالت نے انہیں اور اُن کے بیٹوں کو 26 ستمبر کو طلب کر رکھا ہے۔

عدالت عظمٰی کے فیصلے بعد نواز شریف اپنے منصب سے الگ ہو گئے تھے اور بعد ازاں مروجہ انتخابی قوانین کے تحت اُنھیں اپنی جماعت کی صدارت بھی چھوڑنی پڑی تھی۔

تاہم گزشتہ ہفتے ہی انتخابی اصلاحات کا مجوزہ قانون سینیٹ سے منظور ہوا ہے جس کے بعد نوازشریف کے ایک بار پھر پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG