رسائی کے لنکس

logo-print

'نواز شریف مریم کی غیر موجودگی میں علاج کے لیے تیار نہیں'


(فائل فوٹو)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز کی لندن آمد میں تاخیر سے نواز شریف کا علاج بھی التوا کا شکار ہو رہا ہے۔ اُن کے بقول نواز شریف کا اصرار ہے کہ مریم نواز کی موجودگی سے قبل وہ علاج نہیں کرائیں گے۔

اپنے ایک بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی لندن آمد میں تاخیر سے امراض قلب کے ڈاکٹروں کو دو بار نواز شریف کے علاج کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ پیچیدہ نوعیت کی بیماریاں لاحق ہونے کے باعث نواز شریف کی صحت میں بہتری نہیں آ رہی۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی پہلے بھی دو مرتبہ اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دل کی بیماری کے حوالے سے اُن کا علاج ہوتا رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مریم نواز نواز شریف کی تیمارداری میں مصروف عمل رہی ہیں۔ لہذٰا اس نازک مرحلے پر بھی اُن کا اپنے والد کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔

خیال رہے چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ لیکن اُن کا نام بدستور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور اُن کا پاسپورٹ لاہور ہائی کورٹ کی تحویل میں ہے۔

پاکستان کی حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جائے گا۔ لیکن مریم نواز نے پاسپورٹ کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

نواز شریف کی صحت کے حوالے سے شہباز شریف نے مزید بتایا کہ معالجین نے ان کے دل کی شریانوں اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹوں، دل کے بڑے حصے اور اس کے کام کرنے کے عمل کے شدید متاثر ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف (فائل فوٹو)
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف (فائل فوٹو)

شہباز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کے وقت نوازشریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ جیل میں قید تھے۔ اپنی شریک حیات کھود ینے کے شدید غم نے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ زندگی کے اس کٹھن مرحلے میں مریم نواز، اپنے والد کے لیے قوت اور ڈھارس کا باعث بنی ہوئی تھیں۔ لہذٰا یہ بہت افسوس ناک ہے کہ ایک بیٹی کو اُس کے باپ کی دیکھ بھال کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ کیوں کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے توں توں اُن کی بیماریوں کے علاج کے لیے گنجائش کم ہو رہی ہے۔


نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز کی لندن آمد سے قبل اپنا علاج کرانے پر رضامند نہیں ہو رہے۔ ٹوئٹر پر نواز شریف کی صحت کے حوالے سے تازہ رپورٹس جاری کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سرجری دو بار منسوخ کی جا چکی ہے۔

پنجاب حکومت کا ردعمل

وزیر اعلٰی پنجاب کی ترجمان مسرت جمشید چیمہ کہتی ہیں کہ حکومت کو پہلے سے ہی علم تھا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ایسی فضا بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاکہ مریم نواز کو بھی ملک سے باہر جانے کا جواز مل سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے بارہا نواز شریف کی صحت سے متعلق مستند رپورٹس طلب کی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عدنان اور مسلم لیگ (ن)، مستند رپورٹس دینے کی بجائے بیان بازی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ اُن کی حکومت نے تو پہلے بھی نواز شریف کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اُنہیں عدالت نے ریلیف دیا۔ مسرت چیمہ نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر عدنان ہر لمحہ نواز شریف کے ساتھ ہیں، پھر بھی وہ اُن کی صحت کے حوالے سے مستند رپورٹس بھیجنے سے کیوں گریزاں ہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2019 میں طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں اسلام ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم کی سزا چھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی تھی۔

حکومت نے نواز شریف کو بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی غرض سے انڈیمنٹی بانڈ کی شرط رکھی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔

عدالت نے بیان حلفی کی بنیاد پر نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔ جس کے بعد نواز شریف 19 نومبر کو لندن روانہ ہو گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG