رسائی کے لنکس

logo-print

احتساب ریفرنسز کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی، نواز شریف کی عمران پر کڑی تنقید


فائل فوٹو

سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر کڑی تنقید کی۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسوں کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

منگل کو اسلام آباد کےجوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نواز شریف ، مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کی جس میں سابق وزیرِاعظم اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کی ڈائریکٹر سدرہ منصورنے شریف خاندان کی مہران رمضان ٹیکسٹائل ملزمیں حسین نواز کے شیئرز کی تصدیق شدہ تفصیلات پیش کیں۔

دوران جرح سدرہ منصور نے بتایا کہ وہ اگست 2017ء کو راولپنڈی میں نیب کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور انہوں نے نیب کونوازشریف، حسن اورحسین نواز کے خلاف العزیزیہ اورہل میٹل سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ پیش کردیا تھا۔

سدرہ منصورکی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق حسین نوازچارلاکھ 87 ہزار400 شیئرزکے مالک تھے اورایک شیئر کی قیمت 10 روپے تھی۔ 12 فروری 2001 کو شریف ٹرسٹ کی طرف سے ایک ہزارحصص حسین نواز کو منتقل کیے گئے۔ 27 مارچ 2001 کے فارم اے کے مطابق 4 لاکھ 87 ہزار400 حصص شریف ٹرسٹ کو منتقل کردیے گئے۔ یہ شیئرزتحفے اورعطیے کی صورت میں منتقل کیے گئے۔ 28 مارچ 2002 تک حسین نواز مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز میں ایک ہزار شیئرز کے مالک تھے اور ریکارڈ کے مطابق مہران رمضان مل سے العزیزیہ اورہل میٹل کو کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی۔

بعد ازاں کیس کی سماعت 16جنوری تک ملتوی کردی گئی۔عدالت نے منگل کو غیر حاضر رہنے والے گواہ عمر دراز گوندل سمیت استغاثہ کے دو اور گواہوں آفاق احمد اور ناصر جونیجوکو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

گواہ کی عدم حاضری کی پیشگی اطلاع نہ دینے پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویزنے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کا بھی سرکاری اسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ آنا چاہیے۔ یہ بتا دیتے کہ گواہ نے نہیں آنا تو میں بھی آج پیش نہ ہوتا۔

نیب پراسیکیوٹرنے امجد پرویز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آپ کا موبائل نمبر نہیں تھا ورنہ آپ کو آگاہ کر دیتا۔

منگل کو سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں نواز شریف نے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ کو ان کیسز کی کچھ سمجھ آرہی ہے؟ جس پر صحافیوں نے جواب دیا کہ گواہوں کے بیانات قلم بند ہورہے ہیں۔

نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک کئی گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق نیب عدالت کو چھ ماہ میں ان کیسز کی سماعت مکمل کرنی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اب تک فلیگ شپ ریفرنس کی 19، لندن فلیٹس کی 18 جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 22 سماعتیں ہوچکی ہیں۔نواز شریف 11، مریم نواز 13 جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر 15 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔

سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر کڑی تنقید کی۔

نواز شریف کی عمران خان پر تنقید

نواز شریف نے کہا کہ عمران خان جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔

عمران خان کی شادی کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ عمران خان نے ایک معصوم خاتون اور ان کے بچوں کو میڈیا کی توپوں کے سامنے کردیا ہے۔ عمران خان نے اس خاندان کی عزت و ناموس داؤ پر لگادی اور خود چھپ کر پردے کے پیچھے بیٹھ گئے ہیں جب کہ بشریٰ بی بی کے بچوں کو وضاحتیں دینی پڑرہی ہیں۔

عمران خان کا ردعمل

عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ تین دن سے اس کشمکش میں ہوں کہ کیا میں نے کوئی بنک ڈکیتی کی ہے، منی لانڈرنگ کی ہے یا ماڈل ٹاؤن سانحے کے آپریشن کے احکامات دئیے یا پھر میں نے ریاستی معلومات بھارت کو فراہم کی ہیں؟ میں نے صرف شادی کی خواہش کی ہے۔ کیا شادی کی خواہش رکھنا بڑا جرم ہے۔

عمران خان کے حوالے سے تین روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہوں نے بشریٰ مانیکا نامی خاتون سے یکم جنوری کو شادی کرلی جس کے بعد ان کے ترجمان کی جانب سے اس اطلاع کی تردید کی گئی لیکن ایک روز بعد پی ٹی آئی کے ترجمان نے عمران خان کی طرف سے شادی کا پیغام بھجوانے کی تصدیق کی اور کہا کہ پیغام کے بعد جواب کا انتظار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG