رسائی کے لنکس

logo-print

پچیس جولائی کے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 13 جولائی کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں صدر ممنون حسین نے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

یہ فیصلہ صدر پاکستان نے نگراں وزیر اعظم ناصر الملک کی بھیجی گئی ایڈوائس پر کیا۔ جمعرات کے روز نگران وزیر اعظم نے صدر پاکستان ممنون حسین کو قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو بلانے کی سمری ارسال کی تھی۔

سمری میں قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو بلانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اجلاس میں نومنتخب ارکان قومی اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ خیبرپختنونخواہ اسمبلی کا اجلاس بھی 13 اگست کو طلب کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی اسی تاریخ کو بلائے جانےکا امکان ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو اجلاس ہوا تو پھر وزیر اعظم کا انتخاب 16 تاریخ کو ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس بلانا حکومت وقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ نگراں حکومت نے13 اگست کو اجلاس کی سمری بھیجی ہے۔

قومی اسمبلی کا یہ اجلاس 4 روز تک جاری رہے گا۔ پہلے اجلاس میں قومی اسمبلی کے نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے، پھر اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا اور اس کے بعد قائدِ ایوان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

25 جولائی کو عام انتخابات ہوئے تھے اور آئین کے تحت نگران حکومت کی جانب سے ہر حال میں 15 اگست تک قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلایا جانا ضروری ہے۔

حکومت سازی کے لیے پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی قومی اسمبلی میں تعداد180 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بی این پی(مینگل) کی حمایت کے بعد، تحریک انصاف کو وفاق میں بڑی کامیابی مل گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG