رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے بعد اوباما کے ایجنڈے پہ موسمیاتی تبدیلی سرفہرست


ایسے میں جب ایران کے جوہری سمجھوتے پر مباحثہ اور امریکی صدارتی مہم زور پکڑ رہی ہے، امریکی سربراہ اپنی توجہ موسمیاتی تبدیلی کی جانب مرکوز کر رہے ہیں، جو کہ ایسا معاملہ ہے جسے اُنھوں نے ایک طویل مدت سے قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے

جیوف مِرکن واشنگٹن سے 50 کلومیٹر دور، میری لینڈ کے علاقے الکارج کی ایک خستہ حال عمارت کی چھت پر چڑھتے ہیں، اور چھت پر لگی ہوئی شمسی توانائی پیدا کرنے والی پینلز کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم اپنی ضروریات کی 70 فی صد بجلی اِنہی پینلز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں‘۔

مرکن ’سولر انرجی ورلڈ‘ کے ادارے کے شریک بانیوں میں سے ہیں، جنھوں نے چھ برس قبل یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ مرکن شمسی توانائی کے پینل کی تنصیب کا ادارہ ہے جو تین ملازمین سے بڑھ کر اب 50 پر مشتمل ہے۔

مرکن کے بقول، ’اقتصادیات رنگ جماتی ہے۔ اس کے ذریعے، ہم عوامی پروگراموں کے لیے مالی معاونت کرسکتے ہیں، ہم توانائی کی ضروریات کو شمسی ذرائع سے پورا کرسکتے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ اس سے روزگار پیدا کرنےکے بڑے مواقع میسر آتے ہیں‘۔

صدر براک اوباما نے پیر کے روز شفاف توانائی پر قومی سربراہ اجلاس سے خطاب کیا جس میں اُنھوں نے شمسی توانائی کی افزائش کی نشاندہی کی۔ اس بات پر دھیان مبذول کراتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ 2008ء کے مقابلے میں اب امریکہ شمسی ذرائع سے 20 گُنا زیادہ توانائی پیدا کر رہا ہے۔

اوباما کے بقول، دنیا بھر میں شمسی توانائی کی سب سے بڑی تنصیب گذشتہ برس شروع ہوئی، جس نے 90 لاکھ شمسی پینل نصب کیے، جن کے ذریعے اتنی بجلی پیدا ہوئی جو 100000 گھروں کو شفاف اور متبادل استعمال کے قابل بجلی کی ضروریات کو پورا کرے؛ ایسا جرمنی، چین یا سعودی عرب میں نہیں ہوا، بلکہ متحدہ ریاست ہائے امریکہ نے کر دکھایا ہے‘۔

مارتھاز ونیارڈ میں اپنی تعطیلات گزارنے کے بعد واپسی پر، طیارے کے ذریعے اوباما لاس ویگاس پہنچے جہاں اُنھوں نے متبادل استعمال کے قابل توانائی کے ذرائع کی ایک اہم حکمت عملی کا اعلان کیا، جس مین شمسی توانائی سب سے بڑھ کر کردار ادا کرتی ہے، جو امریکی صارفین کی استعداد کے عین مطابق ہے۔
ایسے میں جب ایران کے جوہری سمجھوتے پر مباحثہ اور امریکی صدارتی مہم زور پکڑ رہی ہے، امریکی سربراہ اپنی توجہ موسمیاتی تبدیلی کی جانب مرکوز کر رہے ہیں، جو کہ ایسا معاملہ ہے جسے اُنھوں نے ایک طویل مدت سے قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

ایک ہی ہفتہ قبل وہ کوئلے کے استعمال سے بجلی پیدا کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کرچکے ہیں، جس کے ذریعے کاربن کے اخراج کو گھٹایا جاسکے گا۔

اوباما ریپبلیکن پارٹی کے اپنے مخالفین اور کوئلے کو استعمال کرنے والی صنعتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ ایسے اقدام سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر آواز بلند کرنے کے لیے وہ نواڈا سے نیو اورلینز اور پھر الاسکا کا دورہ کرنے والے ہیں۔

اوباما عہدے پہ فائز پہلے صدر ہوں گے جو اگلے ہفتے الاسکا کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ عالمی حدت میں اضافے کے اثرات کی نشاندہی کریں گے۔

XS
SM
MD
LG