رسائی کے لنکس

logo-print

سنہ 2030 تک کاربن گیس کے اخراج میں 32 فی صد کمی کا ہدف


اوباما کے ’کلین پاور پلان‘ کے تحت بجلی تیار کرنے کے لیے کوئلے پر انحصار میں کمی کی جائے گی جب کہ دوبارہ استعمال کے قابل توانائی پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے پیر کے روز کاربن گیس کی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ’نئے ضابطوں‘ کا اعلان کیا، جس کا موجب امریکہ کی بجلی کی تنصیبات بنتی ہیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے بڑھ کر کوئی دوسرا بڑا چیلنج لاحق نہیں ہوگا‘۔

اوباما کے ’کلین پاور پلان‘ کے تحت، بجلی تیار کرنے کے لیے کوئلے پر انحصار میں کمی کی جائے گی، جب کہ دوبارہ استعمال کے قابل توانائی پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔

بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات کے لیے متعین کردہ ہدف یہ ہے کہ 2030ء تک کاربن کے اخراج کو 32 فی صد کم کیا جائے گا، جو کہ گرین ہاؤس گیس اخراج کی 2005ء کی سطح ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کاربن گیس کے اخراج میں نو فی صد کی کمی کی جائے، جو گذشتہ سال کے جاری کردہ ضابطوں کے ابتدائی ہدف سے زیادہ ہے۔

اوباما نے متنبہ کیا کہ اگر ہم موسمیاتی تبدیلی کو درست نہیں کرتے تو پھر ہم اُسے نقصان کا مداوا نہیں پائیں گے۔

اس ہدف کے حصول کے لیے، ریاستیں اپنے منصوبےخود تیار کریں گی، اور خود ہی اہداف پورے کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔ لیکن، نئے منصوبے کے تحت، اُنھیں لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے دو سال کی مہلت دی گئی ہے۔ تاہم، 2020ء تک اِن منصوبوں پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے پر عمل درآمد سے امریکہ میں دوبارہ استعمال کے قابل توانائی کے ذرائع میں اضافہ ہوگا، جب کہ بجلی کی پیداور بڑھائی جائے گی۔

صدر نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبوں پر عمل درآمد کے نتیجے میں توانائی پر خرچ کی جانے والی رقوم میں کمی آئے گی۔ بقول اُن کے، ہم ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں کوششیں کرنا ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG