رسائی کے لنکس

logo-print

نائن الیون حملے: ملزمان کے خلاف سماعت کے پہلے روز کیا ہوا؟


امریکی کانگریس نے مقدمے کی کارروائی کو آن لائن نشر کرنے کی تجویز دی ہے۔

سفید شلوار قمیض اور پگڑی پہنے ایک شخص سیکیورٹی اہل کار کے ہمراہ کمرہ عدالت میں داخل ہوتا ہے اور اپنے وکلا کی ٹیم کے ساتھ بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس کی داڑھی کا رنگ سرخ ہے اور اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی نہیں بلکہ کچھ دستاویزات ہیں۔

یہ شخص 55 سالہ خالد شیخ محمد ہے، جو گیارہ ستمبر 2001 کی دہشت گردی کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ہے۔

خالد شیخ محمد کی صحت بظاہر ٹھیک لگ رہی ہے اور وہ اپنے وکلا سے خوشگوار ماحول میں باتیں کر رہا ہے۔

یہ مناظر خالد شیخ محمد اور چار دیگر ملزمان آمار البلوچی، ولید بن آتاش، رمزی بن شبیہ، مصطفیٰ احمد الحوساوی کے خلاف باقاعدہ مقدمہ شروع ہونے سے قبل پری ٹرائل کے پہلے دن کے ہیں۔

خالد شیخ محمد سمیت دیگر پانچ ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمے کا آغاز 2020 میں متوقع ہے۔
خالد شیخ محمد سمیت دیگر پانچ ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمے کا آغاز 2020 میں متوقع ہے۔

خالد شیخ محمد کی طرح مقدمے کے ان باقی ملزمان کو بھی ایک، ایک کر کے عدالت میں لایا گیا۔ ان پانچ افراد پر گیارہ ستمبر کے حملوں میں مبینہ کردار پر جنگی جرائم کی فرد جرم عائد ہے۔ انہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بلوچی ٹوپی پہنے آمار البلوچی بھی ان قیدیوں میں سے ایک ہیں، وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کی لمبی داڑھی ہے۔

وہ سفید شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے اور گلے میں رومال تھا۔ انہوں نے کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہی خوش مزاجی سے آس پاس لوگوں کو سلام کیا۔ آمار نے ہاتھ میں جائے نماز اور کچھ دستاویزات بھی اٹھا رکھی تھیں۔

ولید بن آتاش، رمزی بن شبیہ اور مصطفیٰ احمد الحوساوی سفید رنگ کے عربی لباس میں تھے۔ انہوں نے سفید چادر سے اپنے سروں کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔

سماعت کے پہلے روز ملزمان کے وکلا نے پہلے اپنا اور پھر ملزمان کا تعارف کروایا۔

جج نے تمام ملزمان سے ان کے نام لے کر پوچھا کہ اس وقت عدالت میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا وہ اسے سمجھ سکتے ہیں؟ جس پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔

تمام ملزمان کے لیے مترجم موجود ہیں جو انہیں اس سماعت کی کارروائی سے آگاہ کر رہے ہیں۔

کمرہ عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین بھی موجود تھے۔
کمرہ عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین بھی موجود تھے۔

نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ، انسانی حقوق اور قانونی مدد فراہم کرنے والے غیر سرکاری اداروں کے افراد اور میری طرح ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی یہ سماعت دیکھنے کے لیے یہاں گوانتانامو بے کیوبا پہنچے ہیں۔ سماعت پانچ دن جاری رہے گی۔

امریکی ایوان نمائندگان نے رواں ماہ گوانتانامو بے کیوبا کے فوجی کمشن کو مزید شفاف بنانے کے لیے ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعتوں کو آن لائن نشر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

اب اس ترمیم کو کانگریس کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ 2020 میں باقاعدہ شامل کیا جائے گا، جس کے بعد صدر ٹرمپ اس پر دستخط کریں گے۔

سماعتوں کو آن لائن نشر کرنے کی تجویز کا مقصد عوام کو ان مقدمات سے متعلق باخبر رکھنا اور انہیں براہ راست دیکھنے کا موقع دینا ہے۔ کیلی فورنیا سے پیش کی ہے۔

اس کے تحت گوانتانامو بے کے فوجی جج انٹرنیٹ کے ذریعے ان سماعتوں کو دور دراز کے علاقوں میں موجود امریکی عوام کو دکھانے کا حکم دے سکتے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے اس سماعت میں وکلا استغاثہ اور کونسلر حصہ لے رہے ہیں۔ ملزمان کی طرف سے وکلا صفائی کی ٹیمیں ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ ان سب ملزمان کے قانونی معاون الگ الگ ہیں۔ ہر ڈیفنس ٹیم میں خواتین سمیت کم از کم پانچ وکلا اور کونسلر شامل ہیں۔

ہر ملزم کی ڈیفنس ٹیم میں شامل خواتین ملزمان کے مذہب اور ثقافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حجاب پہن کر سماعت کی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں۔

پہلے دن کی سماعت میں استغاثہ اور دفاع کے وکلا کے درمیان دلائل کا سلسلہ جاری رہا۔

دفاعی وکلا نے قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ شواہد کو سامنے لانے کے لیے امریکی حکومت سے مدد کی درخواست کی گئی تھی، لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

فوجی کمیشن کے جج پری ٹرائل کی سماعت کر رہے ہیں۔
فوجی کمیشن کے جج پری ٹرائل کی سماعت کر رہے ہیں۔

جج کرنل ڈبلیو شان کوہن نے سرکاری وکلا سے کہا کہ وہ 45 دن کے اندر وکلا صفائی کے ساتھ مل کر ان کے تحفظات دور کریں، تاکہ مقدمے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

2012 سے اب تک تین جج اس کیس کی سماعت کر چکے ہیں۔ موجودہ جج کرنل شین کوہن نے جون میں ہی اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔

لگ بھگ سات سال سے مرحلہ وار سماعتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن اس کیس میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

نائن الیون حملوں کو امریکہ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے، جس میں مبینہ طور پر القاعدہ نے چار مسافر بردار طیارے ہائی جیک کرنے کے بعد گرا دیے تھے۔

دو مسافر بردار طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے گئے تھے۔ ایک طیارہ امریکی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹرز پینٹاگان کی عمارت سے ٹکرا گیا تھا جب کہ چوتھا طیارہ جس کا ہدف کیپیٹل ہل تھا، امریکی ریاست پینسلوینیا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر تقریباً تین ہزار شہری ہلاک جب کہ چھ ہزار زخمی ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG