رسائی کے لنکس

logo-print

نائن الیون حملوں کے ملزمان کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت مکمل


عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ سماعت کا اگلا دور نو سے ستائیس ستمبر کو ہو گا۔

کیوبا میں امریکی حراستی مرکز 'گوانتانامو بے' میں نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سمیت پانچ ملزمان کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت مکمل کرلی گئی ہے جس کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ سماعت کا اگلا دور نو سے ستائیس ستمبر کو ہو گا۔

نائن الیون حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کے خلاف پیر سے شروع ہونے والی سماعت جمعے تک جاری رہی جس کے دوران جج کرنل ڈبلیو شین کوہن نے وکلا صفائی اور استغاثہ کے دلائل سنے۔

جمعے کو سماعت کے موقع پر امریکی حکومت کے وکلا نے اگلے سال باقائدہ مقدمے کے آغاز کی تاریخ تجویز کی جبکہ وکلا صفائی نے سال 2021 میں مقدمے کی تاریخ تجویز کی۔

ملزم عمار البلوشی کی وکلا کی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک تمام شواہد سامنے نہیں آجاتے اس وقت تک مقدمے کی تاریخ طے کرنا مناسب نہیں ہے۔

گوانتانامو بے کی عدالت کا بیرونی منظر (وی او اے فوٹو)
گوانتانامو بے کی عدالت کا بیرونی منظر (وی او اے فوٹو)

جج کوہن نے جمعے کے روز کی سماعت میں اس بارے میں کوئی حتمی حکم نامہ جاری نہیں کیا اور کہا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اس بارے میں سوچا جائے گا۔

سماعت کے دوران وکلا استغاثہ کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانچوں ملزمان امریکہ کے دشمن ہیں اور انہوں نے امریکیوں کو قتل کیا ہے۔ ملزمان کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان کے افراد انصاف کے منتظر ہیں۔ امریکہ کی حکومت پُر عزم ہے کہ وہ اس مقدمے کا جلد از جلد آغاز کرے۔

نائن الیون حملوں کی پانچ روز تک جاری رہنے والی اس سماعت میں خفیہ اور غیر خفیہ معلومات پر بحث اور دلائل کا سلسلہ جاری رہا۔ اور خفیہ معلومات کو عام لوگو ں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے کئی بار عدالت کو میڈیا کے نمائندوں اور دیگر لوگوں کے لیے بند کیا گیا۔

جمعے کے روز کی سماعت میں جج کوہن نے 'کلاسیفائیڈ انفارمیشن' کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ معلومات کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ نائن الیون حملوں کے ملزمان کے خلاف 2012 سے ابتدائی سماعتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ان سماعتوں کے تقریباً 37 سیشن ہو چکے ہیں۔

نیو یارک میں 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بتائے جاتے ہیں جب کہ دیگر ملزمان میں القاعدہ کے چار ارکان عمار البلوشی، ولید بن آتاش، رمزی بن شبیہ، مصطفی احمد ال حوساوی شامل ہیں۔

پانچوں ملزمان پر جنگی جرائم عائد کیے گئے ہیں جنہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

نائن الیون حملوں کو امریکہ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ جس میں مبینہ طور پر القاعدہ نے چار مسافر طیارے ہائی جیک کر لیے تھے۔

دو مسافر بردار طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے تھے۔ ایک طیارہ امریکی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرا گیا جبکہ چوتھا طیارہ جس کا ہدف کیپیٹل ہل تھا، امریکی ریاست پینسلوینیا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ تین ہزار شہری ہلاک جبکہ چھ ہزار زخمی ہو گئے تھے۔

خالد شیخ محمد کون ہے؟

پچپن سالہ خالد شیخ محمد امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے مبنیہ ماسٹر مائنڈ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اس وقت خالد شیخ محمد کیوبا کی گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جنہیں 2003 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دو ہزار تین سے دو ہزار چھ تک انہیں افغانستان اور پولینڈ میں سی آئی اے کے خفیہ حراستی مراکز یا بلیک سائٹس پر رکھا گیا جس کے بعد انہیں گوانتانامو بے کی جیل میں منتقل کیا گیا۔

نائن الیون حملوں میں مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے علاوہ دیگر چار ملزمان بھی شامل ہیں جن کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔

عمار البلوشی

بیالیس سالہ عمار البلوشی کا اصل نام عبدالعزیز علی ہے۔ دو ہزار تین میں انہیں کراچی سے القائدہ کے پانچ دیگر ارکان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد انہیں سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مرکز یا بلیک سائٹ پر بھی رکھا گیا۔

عمار البلوشی دو ہزار چھ سے گوانتانامو بے میں قید ہیں اور ان پر نائن الیون حملوں میں معاونت اور اسامہ بن لادن کے لیے کورئیر کا کام کرنے کے علاوہ جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔

مصطفی احمد ال حوساوی

مصطفی احمد ال حوساوی سعودی عرب کے شہری ہیں اور انہیں بھی دو ہزار تین میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔

مصطفی احمد گوانتانامو بے کیوبا کے حراستی مرکز میں تقریباً تیرہ سال سے قید ہیں اور ان پر نائن الیون حملوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔

رمزی بن شبیہ

رمزی بن شبیہ یمن کے شہری ہیں جنہیں پاکستان کے شہر کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

رمزی کو 2006 میں گوانتانامو بے کے حراستی مرکز لایا گیا اور ان پر نائن الیون حملوں کے لیے اہم معاونت کار ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ولید بن آتاش

ولید بن آتاش یمن کے شہری ہیں جنہیں 2003 میں عمار البلوشی یا علی عبدل العزیز کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اُن پر گیارہ ستمبر کے حملہ آوروں کی ٹریننگ اور اسامہ بن لادن کے باڈی گارڈ ہونے کے علاوہ دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG