رسائی کے لنکس

نو مئی مقدمات میں 51 افراد کو سزائیں؛ 'آج تک سمجھ نہیں سکے قصور کیا ہے'


فائل فوٹو
فائل فوٹو

"ذیشان اور ماجد پر کیا جرم ثابت ہوا ہے، ہمیں ابھی تک کچھ علم نہیں۔ ایک واٹس ایپ گروپ میں شمولیت کی بنیاد پر تو بیس سال قیدِ بامشقت نہیں دی سکتی۔"

یہ کہنا ہے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے رہائشی فیضان اسلم کا جن کے بڑے بھائی 28 سالہ ذیشان اسلم اور 38 سالہ کزن ماجد علی سمیت 51 افراد کو ہفتہ کے روز انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نو مئی کے مقدمات میں آٹھ مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر بیس، بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

نو مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ملک بھر میں درج سینکڑوں مقدمات میں سے کسی بھی مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔

فیضان کے مطابق وہ آج تک نہیں سمجھ سکے کہ ان کے بھائی اور کزن کا قصور کیا ہے۔

ان کے بقول، "نو مئی کی رات بھائی اور کزن ایک رسمِ حںا کی مووی بنانے کے لیے دکان سے نکلے تھے اور راہوالی کینٹ کے قریب جہاں دنگا فساد ہو رہا تھا وہاں پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔ بھائی نے پولیس اہلکاروں کو شادی کا کارڈ بھی دکھایا لیکن کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔"

"اہلکاروں نے موبائل میں فیس بک چیک کیا وہاں پی ٹی آئی کی کوئی پوسٹ شیئر نہیں کی گئی تھی لیکن جب واٹس ایپ گروپ چیک کیا تو پی ٹی آئی کے ایک واٹس ایپ گروپ میں بھائی بھی ایڈ تھا اور یہ بھائی اور کزن کا واحد جرم ٹھہرا۔"

فیضان اسلم کہتے ہیں کہ وہ ایک ادارے میں ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام کرتے ہیں جب کہ ان کے بڑے بھائی ذیشان اسلم اور کزن ماجد علی تقریبات کی ویڈیو بناتے اور ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام کرتے ہیں۔

ملزم ذیشان
ملزم ذیشان

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے فیضان نے بتایا کہ ان کے والد رکشہ چلاتے تھے جن کا پانچ سال پہلے 2019 میں انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد گھر چلانے کی ساری ذمے داری دونوں بھائیوں پر آگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ والدہ بڑے بھائی اور بڑی بہن کی شادی اکٹھے ہی کرنے کی خواہش مند تھیں لیکن بھائی کی گرفتاری کے بعد بہن کے رشتے آنا ہی بند ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف گزشتہ برس نو مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا تھا۔

اس احتجاج کے دوران مشتعل ہجوم نے کئی شہروں میں مبینہ طور پر فوجی اور سرکاری تنصیبات میں توڑ پھوڑ کی اور یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ بعدازاں پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے بعض کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات بھی چلائے گئے۔

فیضان اسلم اپنے بھائی اور کزن کی گرفتاری کے بارے میں بتاتے ہیں "نو مئی کو پولیس نے ذیشان اور ماجد کو حراست میں لے کر کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی جس کے بعد انہیں سی آئی اے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دونوں ایک ماہ تک سی آئی اے پولیس کی حراست میں رہے جس کے دوران انہیں شہر کے مختلف تھانوں میں لے جایا جاتا رہا اور مختلف افسران ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ ایک ماہ بعد ان کی گرفتاریاں ڈال کر انہیں سینٹرل جیل گوجرانوالہ بھجوا دیا گیا۔"

فیضان کے مطابق پی ٹی آئی کے وکلا سے رابطہ کیا تو انہوں نے جلد ضمانت ہونے کا یقین دلایا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور مقدمے کا ٹرائل شروع ہو گیا۔

ان کے بقول، "انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جب پیشی ہوتی تو ہم عدالت کے باہر سارا دن انتظار کرتے اور بھائی سے ملاقات کرتے۔ جیل ٹرائل کا حکم آنے کے بعد ملاقات کے لیے سختی بڑھ گئی۔ جیل انتظامیہ نے دن مقرر کر دیا کہ پی ٹی آئی کے پرچے والے ملزمان سے ان کے اہلِ خانہ صرف جمعرات کے روز ملاقات کرسکتے ہیں۔"

فیضان نے کہا "ہمیں پورا ہفتہ انتظار ہوتا کہ جمعرات آنی ہے اور ذیشان سے ملاقات کرنی ہے جب کہ کزن ماجد سے ان کی بیوی اور تین بچے ملاقات کے لیے جیل جاتے تھے۔

فیضان کے مطابق جب ملاقات کا دن ہوتا تو جیل میں انتہائی دل سوز مناظر ہوتے۔ قیدی اور ملاقاتی رو رہے ہوتے اور آنسوؤں اور سسکیوں میں وہ وقت گزر جاتا۔ کبھی قیدی اپنے ملنے والوں کو تسلی دے رہے ہوتے کہ آپ فکر نہ کریں ہم جلد باہر آجائیں گے اور کبھی ملاقاتی اپنے پیاروں کو کہہ رہے ہوتے کہ وکیلوں نے تسلی دی ہے کہ جلد رہائی ہو جائے گی۔ لیکن انہی طفل تسلیوں میں آٹھ نو ماہ گزر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے وکلا نے مقدمات کی سماعت کے دوران بھرپور طریقے سے دلائل دیے جس پر ہمیں قوی امید تھی کہ ملزمان بری ہو جائیں گے لیکن جب تمام 51 افراد کی سزاؤں کا فیصلہ آیا تو ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

فیضان اسلم نے بتایا کہ تمام 51 ملزمان اور ان کے اہلِ خانہ کا آپس میں کوئی خاص رابطہ نہیں تھا۔ اس لیے سب اپنی اپنی قانونی جنگ لڑتے رہے لیکن اب سزاؤں کے بعد پتا چلا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنے تمام کارکنان کی سزا کے خلاف اپیل کا بندوبست اور خرچہ اٹھائے گی اور ان کے گھر والوں کا مکمل خیال رکھے گی۔

فیضان کہتے ہیں کہ اب انہیں معلوم ہے کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے انہیں کیا کرنا ہے۔

ان کے بقول تمام ملزمان کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے ہیں۔ "ہم ہائی کورٹ میں جائیں گے اور اپیل دائر کریں گے۔"

'ملزمان کے خلاف ٹھوس مواد عدالت میں پیش کیا گیا'

گوجرانوالہ کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر محمد شہزاد کے مطابق نو مئی کو راہوالی کینٹ چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں 51 ملزمان کے خلاف ٹھوس مواد موجود تھا جس کی روشنی میں عدالت نے تمام ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے محمد شہزاد نے بتایا کہ ملزمان ذیشان اور ماجد کے موبائل فونز سے ریکارڈنگ ملی تھی جو وہ حساس ادارے کی چیک پوسٹ کے قریب کی تھی۔ ان کے بقل دونوں ملزم راہ گیروں کو اشتعال دلانے اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مقدمے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، سابق وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کو بھی بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا جب کہ اس مقدمے میں خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور، حماد اظہر، عمر ایوب خان، زین قریشی، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنما عدالتی مفرور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے عمران خان سے اڈیالہ جیل جاکر ملاقات کی تھی اور بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مبینہ طور پر انہوں نے تفتیش میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مقدمہ کیا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف نو مئی کو آرمی چیک پوسٹ راہوالی کینٹ اور فوج و پولیس اہلکاروں پر حملوں کا مقدمہ 10 مئی 2023 کو تھانہ کینٹ میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ، قتل و دہشت گردی کی دفعات شامل تھیں۔

نو مئی حملوں میں راہوالی چیک پوسٹ کے قریب راشد مقبول نامی نوجوان ہلاک ہوا تھا جو کہ پولیس رضاکار بتایا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت آٹھ افسران و اہلکاروں کو زخمی کیا گیا۔

استغاثہ کے مطابق پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں پر مشتعل ہجوم نے راہوالی آرمی چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے جلاؤ گھیراؤ کیا اور سرکاری گاڑیوں کو آگ لگائی۔

فورم

XS
SM
MD
LG