رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں پر ’خاموش تنقید‘


شمالی کوریا ان مشقوں پر عموماً کھلے الفاظ میں تنقید کرتا ہے کیوں کہ پیانگ یانگ سمجھتا ہے کہ یہ مشقیں اس کے خلاف جارحیت کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ سالانہ جنگی مشقوں کے بارے میں جنوبی کوریا نے ماضی کے مقابلے نسبتاً کم جارحانہ زبان میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

’اُلچی فریڈم گارڈیئن‘ نامی یہ مشقیں پیر کو شروع ہوئی تھیں اور عموماً پیانگ یانگ ان پر تنقید کرتا ہے کیوں کہ شمالی کوریا سمجھتا ہے کہ یہ مشقیں اس کے خلاف جارحیت کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔

شمالی کوریا کی کمیٹی ’فار پیس فل یونیفیکیشن‘ نے منگل کو ایک بیان میں ان مشقوں کا ذکر تو کیا لیکن خصوصاً ان پر تنقید نہیں کی۔

سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے بیان میں جنوبی کوریا کی صدر پاک گون ہے کے گزشتہ ہفتے کے اس بیان پر تنقیف کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ دوطرفہ کشیدگی میں حالیہ کمی کے باوجود سیول کو چوکنا رہنا چاہیئے۔

گزشتہ ہفتے شمالی و جنوبی کوریا نے مشترکہ طور پر چلائے جانے والے صنعتی مرکز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

دونوں ملکوں نے اتوار کو اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ کہ کوریائی جنگ کے دوران الگ ہونے والے خاندانوں کو ملانے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ جنگی مشقوں کا بیشتر حصہ کمپیوٹرز پر ہی مکمل ہو گا تاہم ان میں دونوں ملکوں کے 80,000 سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG