رسائی کے لنکس

logo-print

اشتہاری ملزموں کی تقاریر دکھانے کی اجازت کیوں دیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ


فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ عدالت مفرور ملزموں کو ریلیف نہیں دے سکتی۔ یہ پارلیمنٹ کا سوال نہیں بلکہ عدلیہ پر اعتماد کا ہے۔ غیر قانونی حکم کو بھی کوئی مفرور کہیں چیلنج نہیں کرسکتا۔

عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے جانے والے افراد کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی ہٹانے سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہر مفرور چاہے گا کہ اسے آن ایئر ٹائم دیا جائے۔ ملزم پہلے سرنڈر کریں پھر قانونی حقوق سے فائدہ اٹھائیں۔ حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا۔ پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے ہیں کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔

کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں: عدالت

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آپ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں؟ اس آرڈر کا کسی کو تو فائدہ ہو گا۔ یہ بہت سنجیدہ سوال ہے۔ درخواست گزار بتا دیں کہ وہ کس کے لیے ریلیف چاہ رہے ہیں؟ پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے؟

سلمان اکرم راجہ نے آگاہ کیا کہ کہ پیمرا نے کسی کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں پر موجود درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ اس آرڈر سے دو لوگ متاثر ہیں، جس پر وکیل سلمان اکرام راجہ نے کہا دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں۔

مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہو سکتی ہے: عدالت

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو متاثرہ فریق ہے، وہ پیمرا کے حکم کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ درخواست گزار کس مفرور کا انٹرویو ایئر کروانا چاہتے ہیں؟ مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہو سکتی ہے۔ مفرور ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہاِِئی کورٹ کی عمارت
اسلام آباد ہاِِئی کورٹ کی عمارت

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ اگر عدالت پیمرا کا آرڈر منسوخ کرتی ہے تو تمام مفروروں کو آن ایئر جانے کا حق ملے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سلمان اکرام راجہ سے دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔ دوران سماعت درخواست گزاروں میں سے کوئی عدالت میں پیش نہ ہوا۔

پیمرا آرڈ کیا تھا

رواں سال یکم اکتوبر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے ملک کے تمام لائسنس یافتہ ٹی وی چینلوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مفرور اور اشتہاری قرار دینے جانے والے افراد کے انٹرویوز، تقاریر اور خطابات نشر نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی ریکارڈنگ چلائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی کہا گیا تھا کہ اشتہاری مجرم کی تقاریر نشر کرنے والے چینل کے لائسنس معطل ہو سکتے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پیمرا ترمیمی ایکٹ 2007 کے سیکشن 27 کے تحت اشتہاری اور مفرور افراد کے انٹرویوز اور خطاب نشر نہیں کیے جا سکتے۔

پیمرا کی یہ ہدایت ایک شہری کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کی گئی تھی۔

صحافیوں کا عدالت سے رجوع

نجم سیٹھی، سلیم صافی، نسیم زہرہ، غریدہ فاروقی، عاصمہ شیرازی اور منصور علی خان سمیت چند صحافیوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ ہیومن رائٹس کمشن، پی ایف یو جے اور دیگر معروف صحافیوں کی جانب سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری اطلاعات اور پیمرا کو فریق بنایا گیا۔

پاکستان ہو یا بھارت، آزادی اظہار کی پیاس ایک جیسی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:32 0:00

درخواست گزاروں نے کہا کہ پیمرا کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا پر غیر آئینی و غیر قانونی قدغن لگائی گئی ہے۔ یہ احکامات آئین کے آرٹیکل 19 'اے' سے متصادم ہیں جو شہریوں کو آزادی اظہار رائے اور معلومات کی فراہمی کا حق فراہم کرتا ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ تعین کرے کہ کیا ایک اشتہاری اور مفرور شخص آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق نہیں رکھتا؟ کیا الیکٹرانک میڈیا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کسی اشتہاری شخص کے بیانات کی تشہیر نہیں کر سکتا؟

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پیمرا کا یکم اکتوبر کا حکم نامہ غیر قانونی قرار دے اور قریقین کو آئندہ اس قسم کے احکامات جاری کرنے سے ہمیشہ کے لیے روکے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کے بعد درخواست گزار صحافیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

درخواست پیمرا کے خلاف ہے، مجرموں کے حق میں نہیں: غریدہ فاروقی

درخواست گزار اور صحافی اینکر پریسن غریدہ فاروقی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جو لوگ صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے درخواست کو پڑھا ہی نہیں۔ یہ درخواست کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ پیمرا کے خلاف ہے۔ جو لوگ کہہ رہے کہ اس درخواست کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف سے ہے تو درخواست کو پڑھے بغیر ہی اس پر بحث شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ پٹیشن پیمرا کے آرٖڈر کے خلاف ہے اور ان آرڈر کے خلاف ہے جو صحافیوں کو انٹرویو کرنے سے روک رہا ہے۔ یہ ان آرڈر کے خلاف ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ فلاں کا انڑویو نشر کرنا ہے فلاں کا نہیں۔ فلاں کا ساٹ چلانا ہے فلاں کا نہیں۔ غریدہ فاروقی نے کہا پاکستان کے آئین اور قانون میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت آپ صحافیوں پر ایسی پابندی لگا سکتے ہیں۔ کوئی قانون مجرم اور اشتہاری کے انٹرویو نشر کرنے سے نہیں روکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ٹوئٹر پر صحافیوں کے خلاف مہم چلا دی ہے۔ یہ پٹیشن پیمرا کے آرڈر کے خلاف ہے اور کسی سیاسی جماعت کے حق میں نہیں۔

فیصلہ سازی کا اختیار ٹی وی چینل انتظامیہ کا ہونا چاہیے: منصور علی خان

اینکر پرسن منصور علی خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ پٹیشن کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں نہیں ہے۔ جب ہمارے وکیل سلمان اکرم راجہ سے عدالت سے سوال کیا کہ اپ کس کیلئے یہ ریلیف مانگ رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس کوئی ایک شخص متاثرہ نہیں، بلکہ بہت سے فریق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو اظہار آزادی کی بات کر رہے ہیں۔ اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو صرف نوازشریف یا اسحاق ڈار کیلئے نہیں ہو گا بلکہ سب کیلئے ہو گا۔ ہمارے لیے بھی ہو گا اور پرویز مشرف کیلئے بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ درخواست میں نوازشریف اور اسحاق ڈار کا نام بطور ریفرنس استعمال کیا۔ مالکان کی طرف سے درخواست دائر نہ کرنے سے متعلق سوال پر منصور علی خان نے کہا کہ یہ مالکان کا فیصلہ ہے۔ اگر وہ نہیں اتے تو ان کی مرضی۔ یہ فیصلہ ٹی وی چینل کی انتظامیہ کا ہونا چاہیے کہ کس کا انڑویو نشر کرنا ہے کس یا نہیں، پیمرا کو یہ اختیار نہیں چاہیے۔

پاکستان کی جمہوریت کیلئے ٹیسٹ کیس: امبر شمی

اینکرپرسن امبر شمی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کا درخواست گزار بننے کا مقصد یہ ہے کہ میڈیا کو سنسر کیا جا رہا ہے اور آزادی اظہار رائے پر وار کیا جا رہا ہے۔ تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نوازشریف اور کئی اہم عہدوں پر فائض رہنے والے اسحاق ڈار اور اسی طرح پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف، کسی پر بھی پابندی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پیمرا نے جو آرڈر جاری کیے ہیں کیا اس کو یہ حق حاصل ہے۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے پاکستان کی جمہوریت کیلئے۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے اس حوالے سے ٹوئیٹ کیا کہ میں نے آزادی صحافت کے مقصد کے لیے پی ایف یو جے اور ایچ آر سی پی کی پٹیشن پر اتفاق کیا تھا لیکن جس انداز میں یہ پٹیشن عدالت میں پیش کی گئی، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس پٹیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی انفرادی شخصیت کا نہیں بلکہ آزادی صحافت کا معاملہ آگے آنا چاہیے۔

درخواست گزاروں نے ن لیگ کے صحافتی ونگ کو جوائن کرلیا: شہباز گل

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو بغیر پڑھے عدالتوں میں پٹیشن کرتے جا رہے ہیں۔ آپ نے اصل صحافیوں اور صحافت کا بھی نقصان کیا ہے۔ آپ کی وضاحت بے وزن اور بے منطق ہے۔ آپ نے ن لیگ کے صحافتی ونگ کو جوائن کر رکھا ہے جو آج کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر جواب دیا کہ یہ عدالت کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG