رسائی کے لنکس

logo-print

پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ


صدر براک اوباما نے رواں ہفتے ہی ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت شمالی کوریا پر اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں نئی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے نئی تعزیرات عائد کیے جانے کے باوجود ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ جمعہ کو علی الصبح یہ میزائل 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل پر گرا۔

جنوب کا کہنا ہے کہ وہ میزائل چھوڑے جانے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے چھوڑے گئے دو بیلسٹک میزائل کا پتا لگایا گیا ہے اور ان کے بقول ان میں سے کوئی بھی امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہیں۔

تاہم یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

صدر براک اوباما نے رواں ہفتے ہی ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت شمالی کوریا پر اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں نئی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

قبل ازیں اسی ہفتے پیانگ یانگ کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے مزید جوہری اور جوہری ہتھیاروں کو لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کرنے کا حکم دیا ہے۔

رواں سال چھ جنوری کو شمالی کوریا کی طرف سے کیے گئے چوتھے جوہری تجربے کے بعد جزیرہ نما کوریا میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

شمال کا موقف ہے کہ اسے امریکہ کی طرف سے عسکری خطرے کے پیش نظر جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

تاہم امریکہ سمیت عالمی برادری شمالی کوریا پر زور دیتی آئی ہے کہ وہ کشیدگی اور تناؤ کا باعث بننے والے اقدام سے گریز کرے۔

XS
SM
MD
LG