رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ سے مذاکرات اور محاذ آرائی دونوں کے لیے تیار ہیں: شمالی کوریا


وزیر خارجہ رایانگ ہو (فائل فوٹو)

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ رایانگ ہو نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور محاذ آرائی دونوں کے لیے تیار ہے۔

جمعے کے روز رایانگ ہو نے ہنوئی میں ایک سمٹ میں شرکت ہے اس سمٹ میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی شریک تھے۔ اس سمٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے مائیک پومپیو کو امریکہ کی سفارت کاری میں 'بدترین زہر' قرار دیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پومپیو کے حوالے سے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ جوہری تخفیف سے متعلق مذاکرات کو پیچیدہ کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مائیک پومپیو کی موجودہ امریکی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ذاتی سیاسی عزائم میں زیادہ دلچسپی ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا جوہری پروگرام معطل نہیں کرتا تو امریکہ اس پر تاریخ کی سب سے سخت پابندیاں برقرار رکھے گا۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی اسٹیفن بیگن نے بدھ کو کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر معطل ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے مثبت جواب ملتے ہی بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔

روّاں سال فروری میں ہونے والی ٹرمپ کِم جونگ ملاقات کے بعد ابھی تک امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات شروع نہیں ہوسکے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ اور کِم جونگ کے درمیان جون میں ہونے والی ملاقات میں بھی طے پایا تھا کہ مزاکرات دوبارہ سے شروع کیے جائیں گے، جو کہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکے۔

شمالی کوریا، جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے جزوی اقدامات کے بدلے میں بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے تک پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ لیکن، گزشتہ کچھ عرصے میں امریکی حکام کی طرف سے کچھ لچک کا سامنا کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG