رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے پر تیار ہیں: امریکہ


امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے شمالی کوریا اسٹیفن بیگن نے سیول میں جنوبی کوریا کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

شمالی کوریا کے لیے امریکہ کے نمائندۂ خصوصی اسٹیفن بیگن نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر معطل ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے مثبت جواب ملتے ہی بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کے اختتام کے بعد "ملاقات اور مذاکرات کے آغاز" کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ فوجی مشقیں رواں ہفتے ہی ختم ہوئی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں۔ (فائل فوٹو)
ڈونلڈ ٹرمپ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں۔ (فائل فوٹو)

پیانگ یانگ نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی ان مشترکہ فوجی مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

ان مشقوں کے ردِ عمل میں شمالی کوریا حالیہ چند ہفتوں کے دوران کم فاصلے تک مار کرنے والے چھ میزائل تجربات کر چکا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ ان میزائل تجربات پر تشویش کا شکار ہیں۔ ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے بیانات کے برعکس ہے جو کہہ چکے ہیں کہ وہ ان تجربات کو اہم نہیں سمجھتے۔

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ شمالی کوریا مزید میزائل تجربات نہ کرے۔

رواں ماہ کے شروع میں امریکہ کے صدر نے کہا تھا کہ انہیں کم جونگ ان نے "ایک بہت ہی خوبصورت خط" ارسال کیا ہے جس میں ان تجربات پر ایک "چھوٹی سی معافی" بھی موجود ہے۔

امریکہ کے صدر پر امید ہیں کہ وہ اپنی صدارت کی اسی مدت کے دوران ہی پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کی تخفیف پر آمادہ کر لیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG