رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ فیصلہ کر لے اسے کرسمس پر کیا 'تحفہ' چاہیے: شمالی کوریا


فائل فوٹو

شمالی کوریا نے امریکہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 'دشمنی پر مبنی پالیسیوں' کو تبدیل کرنے کے لیے رواں سال کے آخر تک مہلت دی تھی اور وہ ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، شمالی کوریا کے مقامی میڈیا پر وزارتِ خارجہ کا ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے اس بیان میں شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات سے متعلق خارجہ امور کے نائب وزیر لی تھائی سانگ نے واشنگٹن کو تنبیہ کی ہے واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کرسمس پر کیا 'تحفہ' وصول کرنا چاہتے ہیں۔

لی تھائی سانگ نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مزید مذاکرات کی دعوت ایک بے وقوفانہ چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اُن کے بقول، اس کا مقصد شمالی کوریا کو صرف مذاکرات تک محدود رکھنا ہے، تاکہ آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں اس صورتِ حال کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

لی تھائی نے مزید کہا کہ شمالی کوریا نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ جو اقدام انہوں نے پہل کرتے ہوئے اٹھائے ہیں، اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔ لیکن اب جو کچھ بھی کرنا باقی ہے، وہ امریکہ کے اختیار میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی واشنگٹن کو ہی کرنا ہے کہ وہ کرسمس پر کیا تحفہ لینا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے معاملے پر مذاکرات سست روی کا شکار ہیں۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ برس جون سے اب تک تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کا معاملہ مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

شمالی کوریا چاہتا ہے کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق مذاکرات میں اپنے مؤقف میں نرمی لائے۔ لہٰذا، جہاں ایک طرف مذاکرات جاری ہیں وہیں شمالی کوریا کی جانب سے اکثر میزائل تجربات بھی کیے جاتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG