رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کے معاون ملکوں کی فہرست میں نام آنے پر شمالی کوریا برہم


فائل فوٹو

شمالی کوریا نے امریکہ کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ملکوں سے متعلق ایک رپورٹ میں اس کا نام شامل کیے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔ پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ واشنگٹن کی مخاصمانہ پالیسی کی ایک مثال ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے جمعے کو دہشت گردی سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اگرچہ اس رپورٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں شمالی کوریا پر کم تنقید کی گئی۔ لیکن رپورٹ میں شمالی کوریا کو 2017 میں دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ملک کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے 'کورین سینٹرل نیوز ایجنسی' کے مطابق پیانگ یانگ کے محکمۂ خارجہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ایسے رویوں اور اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کو دہشت گردی کے معاون ملکوں کی فہرست میں پہلی بار 1988 میں شامل کیا گیا تھا۔ امریکہ نے 2008 میں شمالی کوریا کا نام اس فہرست سے نکال دیا تھا لیکن 2017 میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اس وقت کے سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن نے شمالی کوریا کو دوبارہ اس فہرست میں ڈال دیا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت بار بار عالمی دہشت گردی کی معاونت کر رہی ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے محکمۂ خارجہ نے مذکورہ رپورٹ سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مذاکرات کی توہین ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ برس جون سے اب تک تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کا معاملہ مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن دونوں فریقین کے درمیان اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن۔
صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن۔

شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ وفود کی سطح پر مذاکرات ہونا تھے لیکن پیانگ یانگ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔

شمالی کوریا نے مذاکرات نہ کرنے کا الزام امریکہ پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے مطالبات نہیں مان رہا۔ جس کے بعد پیانگ یانگ نے جوہری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات کی دھمکی بھی دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG