رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا سرمائی اولمپکس میں اپنے کھلاڑی بھیجنے پر آمادہ


جنوبی کوریا کا ایک شہری دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات کی خبر ٹی وی پر دیکھ رہا ہے

منگل کو ہونے والے مذاکرات کا دائرۂ کار واضح نہیں البتہ مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی یہ توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ شمالی کوریا سرمائی اولمپکس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردے گا۔

شمالی کوریا نے آئندہ ماہ پڑوسی ملک جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے لیے اپنے کھلاڑی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے اولمپکس میں شرکت کا اعلان دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔

دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات منگل کو سرحدی گاؤں پنمن جوم میں ہوئی جس میں سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی شرکت کا معاملہ زیرِ غور آیا۔

مذاکرات کے بعد جنوبی کوریا کے نائب وزیربرائے الحاق چن ہائی سنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ شمالی کوریا کے وفد نے اولمپکس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

چن ہائی سنگ کے مطابق شمالی کوریا 9 سے 25 فروری تک ہونے والے اولمپکس میں شرکت کے لیے اپنی ٹیم بھیجے گا جن میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کے علاوہ چیئر لیڈرز اور صحافی بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران جنوبی کوریا کے وفد نے جنگ کے باعث تقسیم ہوجانے والے خاندانوں کی ملاقاتیں دوبارہ شروع کرنے اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے لیے باہمی مذاکرات شروع کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

جنوبی کوریائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کے وفد نے مذاکرات میں خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

چن ہائی سنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ جنوبی کوریا کی تجاویز پر شمالی کوریا کے وفد کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو بات چیت کے ذریعے امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔

چن ہائی سنگ جنوبی کوریا کی اس پانچ رکنی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں جس نے وزیرِ الحاق چو میونگ گیون کی سربراہی میں شمالی کوریا کے وفد سے مذاکرات کیے۔ مذاکرات میں شمالی کوریا کے وفد کی قیادت پیانگ یانگ کے وزیرِ الحاق ری سون گون نے کی۔

دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منگل کی دوپہر ہوگا۔ جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور خاصے خوش گوار ماحول میں ہوا۔

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والے یہ پہلے مذاکرات ہیں جو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے نئے سال کے موقع پر کیے جانے والے اس خطاب کے بعد ہورہے ہیں جس میں انہوں نے غیر متوقع طور پر جنوبی کوریا کو تعلقات بہتر بنانے کی پیش کش کی تھی۔

شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات اور امریکہ کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد خطے کی صورتِ حال گزشتہ ایک برس سے انتہائی کشیدہ ہے اور ایسے میں کم جونگ ان کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار عالمی برادری کے لیے خاصا غیر متوقع تھا۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے شمالی کوریا کی قیادت امریکہ اور جنوبی کوریا کو تقسیم کرنا چاہتی ہے جو شمالی کوریا کے خلاف قریبی اتحادی اور مشترک موقف اپنائے ہوئے ہیں۔

منگل کو ہونے والے مذاکرات کا دائرۂ کار واضح نہیں البتہ مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی یہ توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ شمالی کوریا سرمائی اولمپکس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں ہونے والے مذاکرات اکثر و بیشتر کسی حتمی نتیجے یا اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG