رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا: تنقید سب پر سوائے ٹرمپ کے


شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان، فائل فوٹو

شمالی کوریا نے وائٹ ہاؤس کے حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ امریکہ ہے۔ مگر پیانگ یانگ نے ایک شخص کو اپنی نکتہ چینی کا ہدف نہیں بنایا اور وہ ہیں صدر ٹرمپ۔

یہ رویہ شمالی کوریا کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی خواہش کا مظہر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا شمالی کوریا کے ساتھ رویہ اپنے ماتحتوں کے برعکس نرم ہے۔

اس تنقید کی پشت پر شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات ختم کیے بغیر امریکہ پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں سائمن سینٹر میں مشرقی ایشیا کی سیکورٹی پالیسی کے ایک ماہر ڈیوڈ کم کا کہنا ہے کہ ‘‘وہ امتیاز کرنے میں ماہر ہیں۔ انہیں پتا ہے جب تک وہ صدر ٹرمپ پر تنقید نہیں کرتے، سب ٹھیک رہے گا۔’’

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے متعدد امریکی حکام پر تنقید کی ہے۔

سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ ‘‘بے معنی گفتگو’’ کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ہتھیاروں کے ایک تجربے کو ’’ٹیکٹیکل گائیڈڈ ہتھیار’’ قرار دینے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر شدید تنقید کی۔

شمالی کوریا کے میڈیا نے ملک کے محکمہ خارجہ کے ایک افسر سے منسوب ایک بیان رپورٹ کیا کہ ’’مائیک پومپیو کو لایعنی گفتگو کرنے اور کسی کہانی ساز کی طرح من گھڑت کہانیاں بنانے کی عادت ہے۔’’

اس افسر کا کہنا تھا کہ ‘‘جب بھی مائیک پومپیو مداخلت کرتے ہیں، مذاکرات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔’’

اس افسر کا مطالبہ تھا کہ مائیک پومپیو کو مذاکراتی ٹیم سے خارج کر دیا جائے۔

شمالی کوریا نے وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے بارے میں بھی ‘‘خون پینے والا’’ اور ‘‘انسانیت کا گند’’ جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

اس کے برعکس صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم یانگ انگ کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں۔

شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا ان دونوں سربراہان کے تعلقات پر رطب اللسان ہے۔

شمالی کویا کے سفارت کار چائی سوئی ہوئی نے مارچ میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور کم یانگ انگ کے تعلقات ‘‘حیران کن طور پر بہترین ہیں۔’’

صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ان کی کم یانگ ان کے ساتھ دوستی شمالی کوریا کے سربراہ کو نیوکلیئر ہتھیار ختم کرنے پر رضامند کر سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پچھلے برس کہا کہ ‘‘ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔’’ اور یہ کہ ‘‘ہمارے درمیان خوبصورت خطوط کا تبادلہ ہوا۔’’

ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے نرم رویے کی وجہ سے شمالی کوریا کا خیال ہے کہ وہ ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر کے بہتر معاہدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں شمالی کوریا کے خلاف سخت گیر رویہ رکھنے والے حکام پر حاوی ہیں۔

پچھلے ہفتے امریکی وزارت خزانہ نے دو چینی بحری کمپنیوں پر شمالی کوریا کو سامان کی سپلائی کے الزام میں پابندیاں لگا دیں تھیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے مداخلت کر کے اگلے ہی دن ختم کروا دیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری سارا سینڈرز کا کہنا تھا کہ ‘‘صدر ٹرمپ انفرادی طور پر چیئرمین کم کو پسند کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایسی پابندیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔’’

صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم یانگ ان کی ذاتی سطح پر جاری سفارت کاری کے باوجود دونوں ملکوں کےدرمیان جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک شمالی کوریا اپنی جوہری صلاحیت سے دستبردار نہیں ہوتا، وہ اس پر سے پابندیاں نہیں اٹھائیں گے، جب کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی جانب سے ملک پر عائد اکثر پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں اپنا نیوکلئیر پروگرام جزوی طور پر بند کرنے کی پیش کش کی ہے۔

چیئرمین کم نے اس مہینے کے شروع میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ سے تیسری مرتبہ ملنے کو تیار ہیں مگر انہوں نے امریکہ کو اپنا رویہ بدلنے کے لیے اس برس کے آخر تک کی مہلت دینے کی بات کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG