رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری توانائی کے حصول میں ایشیائی ممالک کو درپیش مشکلات


جوہری توانائی کے حصول میں ایشیائی ممالک کو درپیش مشکلات

جنوبی مشرقی ایشیا کے ممالک تیزی سے ترقی کر رہے جسکے لئے انہیں مزید توانائی کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ملک ایٹمی توانائی کے حصول بارے سوچ رہا ہے لیکن اسکے لیئے کئی چیلنجز درپیش ہیں-

جنوب مشرقی ایشیا میں حکومتیں اور کاروباری طبقہ اس چیز سے پریشان ہے کہ جلد ہی توانائی کی طلب رسد کے مقابلے میں بڑھ جائے گی جو کہ معاشی شرح افزائش کیلئے خطرہ ہے-

یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا،ملائیشیا،تھائی لینڈ اور ویت نام نے اگلے دس برسوں میں نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے کا منصوبہ بنایا ہے-

ویتنامی اٹامک انرجی کمیشن کے چیرمین وانگ ہو تن کہتے ہیں کہ ویتنام میں آٹھ ایٹمی پلانٹس کے قیام سے توانائی کے علاوہ غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا-

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ویتنام کو بجلی کی کمی کا سامنا ہےجس سے سرمایہ کارپریشان ہیں۔ ہمارے نزدیک سب سے اہم بات بغیر کسی رکاوٹ کے بجلی کی فراہمی کو ممکن بناناہے-

جنوب مشرقی ایشیا میں واحد ایٹمی بجلی گھر فلپائن میں باٹان پلانٹ ہے لیکن زلزلوں اورقریب واقع آتش فشاں پھٹنے سے اسے کبھی استعمال نہیں کیا جاسکا-

فلپائن اپنے ایک27 برس پرانے پلانٹ کو استعمال کرنے بارے سوچ رہا ہے لیکن اس پلانٹ کے انچارج سریلوباٹیسیا کہتے ہیں اس پلانٹ کے استعمال کے لیئے نئے کارکنوں کی تربیت کرنا ہو گی-

جنوب مشرقی ایشیا میں محفوظ ایٹمی توانائی کا حصول ہی صرف مسئلہ نہیں بلکہ یہ خطہ اس کی پیداوار بڑھانے میں کرنے بھی خاصا سست واقع ہوا ہے-

یہاں حکومتوں کا انحصار زیادہ تر ہایئڈروپاور ڈیمز پر رہا ہے اور زیادہ تر توجہ معدنی ایندھن کے حصول پر مرکوز رہی ہے۔ جس کا استعمال ماحول پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آجکل کوئلے سے بجلی کی پیداوارانتہائی سستی ہے- اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا - لیکن ہمیں اس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دھوئیں کا اخراج کم سے کم کیا جائے۔

توانائی کے ماہرین کہتے ہیں کہ جوہری بجلی کے حصول میں درپیش چیلنجزہی دراصل جنوبی ایشیا میں اس کے حصول کووسعت دیں گے-

XS
SM
MD
LG