رسائی کے لنکس

ڈیموکریٹس بائیڈن کی کامیابی کے لیے متحد ہوجائیں: اوباما


سابق صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ جو بائیڈن کی کامیابی کے لیے متحد ہوجائیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ان کی کامیابی کے لیے متحد ہوجائیں، تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں شکست دے کر وائٹ ہاؤس دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔

ڈیلاوئیر سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جو بائیڈن صدر اوباما کے دونوں ادوار میں ان کے نائب صدر تھے۔ ان کی صدارتی مہم کی ویب سائٹ پر منگل کو براک اوباما کی 11 منٹ کی ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔ اس میں انہوں نے جو بائیڈن کے کردار اور عزم کی تعریف کی اور کہا کہ وہ کرونا وائرس جیسے بحرانوں میں ملک کی قیادت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بڑے بحرانوں کے دور میں اگر ہم نے بطور قوم کچھ سیکھا ہے تو وہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا عزم ہے جو گھروں، دفاتر، محلوں اور عبادت گاہوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اسے ہماری قومی حکومت میں بھی جھلکنا چاہیے۔

اوباما نے کہا کہ ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو علم اور تجربے سے رہنمائی حاصل کرے، مخلص، دردمند اور باوقار ہو۔ ایسی قیادت صرف ریاستی صدر مقام یا مئییر آفس میں نہیں، وائٹ ہاؤس میں بھی چاہیے۔ اسی لیے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی صدارت کے لیے جو بائیڈن کے نام کی فخر سے توثیق کرتا ہوں۔

براک اوباما اس ویڈیو کے ساتھ سیاسی میدان میں دوبارہ جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے متعدد رہنماؤں میں مقابلے کے دوران وہ عوام کی نظر سے دور رہے۔ لیکن، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ درون خانہ سرگرم رہے۔

جو بائیڈن نے اس ویڈیو کے نشر ہونے کے بعد براک اوباما سے اظہار تشکر کیا۔ انھوں نے کہا، براک! آپ کی توثیق میرے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔ ہم دونوں نے مل کر جس ترقی کی بنیاد رکھی تھی، اسی جانب پیشرفت کریں گے اور اس کے لیے مجھے سب سے بڑھ کر آپ کا ساتھ چاہیے۔

براک اوباما نے اس پیغام میں صدر ٹرمپ کا نام نہیں لیا۔ لیکن، انھیں تنقید کا نشانہ بنائے بغیر نہیں رہ سکے۔ انھوں نے کہا کہ ری پبلکنز جو وائٹ ہاؤس میں رہتے ہیں اور امریکی سینیٹ کو چلا رہے ہیں، وہ امریکی عوام کی ترقی کے بجائے صرف اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ ایسے قائد ہیں جنھیں بحران کے دور میں عام امریکی کے بجائے دولت مندوں کی مدد کرنے میں دلچسپی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور سینیٹ ری پبلکنز نے قانون کی حکمرانی، ووٹنگ کے حقوق اور شفافیت کے امریکی اصولوں کو بار بار پامال کیا ہے۔ اور انھیں ایک پروپیگنڈا نیٹ ورک کا تعاون حاصل ہے جس کا سچ سے کوئی تعلق نہیں۔

براک اوباما نے ویڈیو میں برنی سینڈرز کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ برنی ایک سچے امریکی ہیں۔ ایک ایسے شخص جس نے اپنی پوری زندگی کام کرنے والے طبقے کی امیدوں، خوابوں اور مایوسیوں کو آواز دینے میں صرف کی ہے۔ میں اور برنی نہ صرف ہمیشہ ہر بات پر متفق رہے ہیں، بلکہ ہم دونوں کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ ہمیں امریکہ کو زیادہ منصفانہ، زیادہ مساوی معاشرہ بنانا چاہیے۔

براک اوباما سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے جو بائیڈن کے سب سے بڑے حریف سینیٹر برنی سینڈرز بھی ان کی حمایت کرچکے ہیں۔ پیر کو بائیڈن کے ساتھ ایک ویڈیو چیٹ میں انھوں نے صدارتی انتخاب میں مکمل تعاون کا اظہار کیا تھا۔ برنی سینڈرز نے گزشتہ ہفتے صدارتی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG