رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کا غزہ کی پٹی سےمتعلق بہترطریقہٴ کار اپنانے پرزور


مسٹر عباس نے اسرائیل پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کا، اُن کے بقول، محاصرہ ختم کیا جائے اورساری سرحدی گزر گاہوں کو کھول دیا جائے

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کی صورتِ حال جاری رہنے والی نہیں، اور فلسطینی علاقے میں بہتری لانے کے لیے نیا طرزِ عمل اپنانے کی اپیل کی۔

مسٹر اوباما نے یہ بیان بدھ کے روز وائیٹ ہاؤس میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد دیا۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی سے متعلق معاملے پر امریکی صدر نے کہا کہ ایسا کوئی طریقہٴ کار اختیار کرنا ضروری ہے جس سے اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو ترقی کی اجازت دی جاسکے۔

مسٹر عباس نے اسرائیل پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کا، اُن کے بقول، محاصرہ ختم کیا جائے اور ساری سرحدی گزر گاہوں کو کھول دیا جائے۔

مسٹر اوباما نے غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی امداد کےلیے اضافی 40کروڑ ڈالر دینے کے امریکی منصوبے کا اعلان کیا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے اُس امدادی قافلے پر حملہ کیا تھا جوغزہ کی پٹی کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔اِس کارروائی میں آٹھ ترک باشندے اور ایک ترکی نژاد امریکی شہری ہلاک ہوئے۔

مسٹر اوباما نے اِس واقعے کو ایک المیہ قرار دیا اور اقوإمِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شفاف تفتیش کے مطالبے کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے اپنے حملے کا دفاع کیا ہے کہ اُس کی فوجوں نے اپنے دفاع میں یہ اقدام لیا تھا۔

امریکہ ، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ صدر اوباما نے اِسی سال کے دوران مذاکرات میں ‘حقیقی پیش رفت’کی پیش گوئی کی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مچیل نے بات چیت کے ایک تازہ دور میں گذشتہ ہفتے مسٹر عباس اور مسٹر نتن یاہو سے ملاقات کی ۔

XS
SM
MD
LG