رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: 4 ٹریلین ڈالر مالیت کا سالانہ بجٹ کانگریس کو پیش


ادھر، اسپیکر رائن نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے ’’کبھی ایسا بجٹ پیش نہیں کیا جس میں توازن کا خیال رکھا گیا ہو۔۔ کبھی نہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ بجٹ ہے ہی نہیں۔ یہ وفاقی حکومت کی بڑھتی ہوئی شاہ خرچیوں کی دستاویز ہے، جب کہ سخت محنت کرنے والے امریکیوں کے مفاد کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا‘‘

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز اگلے اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے چار ٹریلین ڈالر کا مجوزہ وفاقی اخراجاتی بجٹ کانگریس کو پیش کیا ہے۔ تاہم، ریپبلکن اکثریت والی کانگریس نے پہلے ہی یہ عندیہ دیا ہے کہ اوباما کے عہدہٴ صدارت کے آخری سال کے دوران وہ صدر کی بہت سی مجوزہ تجاویز کو نظرانداز کر سکتی ہے۔

موجودہ صدارتی مہم کے دوران، جس کا مقصد اپنے جانشین کا انتخاب کرنا ہے، ڈیموکریٹک پارٹی سےتعلق رکھنے والے صدر ایسے منصوبوں کی تجاویز پیش کر رہے ہیں، جن سے ممکنہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کے حامیوں کی تشفی ہو، جب کہ عین ممکن ہے کہ، کسی حد تک، ریپبلیکن امیدوار اِن کی مخالفت کرے۔

مالی سال 2017ء کے لیے اوباما کے بجٹ کے سرکاری اجرا سے پہلے، وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ مجوزہ بجٹ میں مشرق وسطیٰ میں داعش کے باغیوں کے خلاف لڑائی پر اضافی رقوم مانگی گئی ہیں، جب کہ بجٹ تجاویز میں۔۔ 10 ڈالر فی بیرل خام تیل پر ٹیکس لگا کر ذرائع نقل و حمل کے منصوبوں کو ’شفاف‘ بنیاد پر چلانے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، اور اس میں سرطان کے علاج کے لیے نئی تحقیق کے پروگرام شروع کرنا اور کم آمدن والے طبقے کے طالب علموں کے لیے مزید مالی امداد کا تقاضا کرنا شامل ہے۔

بڑھتا ہوا خسارہ

اوباما اِس بات کے خواہاں ہیں کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے 7.5 ارب ڈالر کی رقوم مختص کی جائیں، جو کہ اس مد میں 50 فی صد کا اضافہ ہے، جس میں 45000 سے زائد ’جی پی ایس گائڈڈ‘ سمارٹ بم خریدے جائیں گے۔

ممکن ہے کہ مجوزہ بجٹ کے نتیجے میں سالانہ خسارہ پھر سے زور پکڑ جائے، جو گذشتہ سال 439 ارب ڈالر کی کمی کے باعث بعدازاں نصف ٹریلین کی حد کو چھو رہا تھا۔

اوباما کی گذشتہ سات برس کی میعاد صدارت کے دوران، سرکاری خسارہ کم ہوتا رہا ہے، جب کہ صدر کے عہدہ سنبھالنے سے ایک سال قبل یہ 1.4 ٹریلین ڈالر کی اونچی حد پر تھا، جو کہ 1930ء کی دہائی کے ’گریٹ ڈپریشن‘ کے بعد سب سے سنگین درجے کی کساد بازاری تھی۔

اوباما کی جانب سے تیل پر محصول لاگو کرنے کی تجویز ایسے وقت سامنے آرہی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کے نرخ اپنی کم ترین سطح، یعنی تقریباً 30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہیں۔

اوباما نے کہا ہےکہ اُن کا پیش کردہ 2017ء کا بجٹ منصوبہ ’’کلیدی مدوں میں سرمایہ کاری کا متقاضی ہے جب کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی جانب سے کیا گیا سمجھوتا، جس پر گذشتہ موسم خزاں کے دوران دستخط ہوئے، کا خیال رکھا گیا ہے‘‘۔
ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنےوالے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، پال رائن نے بجٹ تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صدر اوباما اپنا عہدہ مکمل کرنے والے ہیں۔ لیکن، اُنھوں نے ایسا بجٹ پیش نہیں کیا جس میں توازن کا خیال رکھا گیا ہو۔۔ کبھی بھی نہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ بجٹ ہے ہی نہیں۔ یہ وفاقی حکومت کی بڑھتی ہوئی شاہ خرچیوں کی دستاویز ہے، جب کہ سخت محنت کرنے والے امریکیوں کے مفاد کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا‘‘۔

عام طور پر، ریپبلیکن کنٹرول والی کانگریس تیل پر نئے ٹیکس کو مسترد کرتی آئی ہے، جب کہ اوباما کے مخالفین حکومت کے اخراجات کی تجاویز بھی مسترد کرتے رہے ہیں، بالکل ایسی ہی جسے حالیہ برسوں کے دوران امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے امریکیوں پر زیادہ ٹیکس لگانے یا بڑے بینکوں پر نئی فی عائد کرنے کی بھی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔

پہلے ہی، ریپبلکن قانون سازوں نے وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر، شان ڈونون کو مدعو نہ کرنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا ہے، جن کا ذمہ ہے کہ وہ 2017ء کے بجٹ کی حمایت میں دلیل دیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے ریپبلیکن قانون سازوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’’بجٹ کے معاملے پر بھی ڈونالڈ ٹرمپ کا مباحثے میں شرکت نہ کرنے کا انداز اپنا رہے ہیں‘‘۔ وہ سرکردہ ریپبلیکن صدارتی امیدوار کی جانب سے گذشتہ ماہ پارٹی کے ایک مباحثے میں شرکت کرنے سے انکار کا حوالہ دے رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG