رسائی کے لنکس

logo-print

شٹ ڈاؤن کے باعث صدر اوباما کا دورہ ایشیا مختصر


شٹ ڈاؤن سے تقریباً آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین متاثر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے پارکس اور کئی وفاقی ادارے بھی بند ہیں۔

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے صدر براک اوباما کو اپنا متوقع دورہِ ایشیا مختصر کرنا پڑا ہے۔

شٹ ڈاؤن کے دوسرے روز بدھ کو وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر اوباما ملائشیا اور فلپائن نہیں جائیں گے، تاہم توقع ہے کہ وہ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم اور مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم کے سربراہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے انڈونیشیا اور برونائی کا دورہ کریں گے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان کیٹلن ہیڈن نے کہا کہ یہ اقدام ایوانِ نمائندگان کی وجہ سے ’’حکومت کے شٹ ڈاؤن کا ایک اور نتیجہ ہے‘‘۔

شٹ ڈاؤن منگل کو علی الصباح نافظ العمل ہوا تھا کیوں کہ قانون ساز مقررہ وقت میں وفاقی بجٹ کی منظوری دینے میں ناکام رہے تھے۔

ایوانِ نمائندگان میں ریپبلیکنز بجٹ کو صحت عامہ سے متعلق افورڈایبل کیئر ایکٹ میں تاخیر یا اس کے لیے مالی وسائل کی عدم دستیابی سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔

مگر ڈیموکریٹس کی اکثریت والی سینیٹ نے اس سلسلے میں تمام قانونی مسودوں کو مسترد کر دیا۔ بجٹ سے متعلق مسودے کی سینیٹ سے منظوری لازمی ہوتی ہے۔

شٹ ڈاؤن سے تقریباً آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین متاثر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے پارکس اور کئی وفاقی ادارے بھی بند ہیں۔

کوئینیپیاک یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے جائزہ کے مطابق 72 فیصد امریکی شٹ ڈاؤن کے خلاف ہیں۔


شٹ ڈاؤن کی وجہ وائس آف امریکہ کی نشریات متاثر نہیں ہوئی ہیں، تاہم سمتھ سونیئن عجائب گھر اور کئی ایسے دفاتر بند ہیں جن کا تعلق وفاقی ٹیکس اور غریب لوگوں کو خوراک کی فراہمی جیسی سہولتوں سے ہے۔

پینٹاگون کے بیشر سیولین ملازمین بھی کام پر نہیں جا رہے، اگرچہ امریکی فوج بدستور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کی تقریباً تمام سرگرمیاں بند ہو گئی ہیں۔

دیگر وفاقی ملازمین نوکری پر جا رہے ہیں تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اُنھیں کام کا معاوضہ ملے گا۔
XS
SM
MD
LG