رسائی کے لنکس

سفارت خانے یروشلم منتقل کرنے والے ممالک کے بائیکاٹ کا عندیہ


اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ ان ریاستوں کا بائیکاٹ کریں جنہوں نے اسرائیل میں واقع اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور گوئٹے مالا وہ ملک ہیں جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے وہاں منتقل کردیے ہیں۔

مکہ میں ہونے والے او آئی سی سربراہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017ء میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو بھی تسلیم کیا تھا۔

فلسطین کے حوالے سے او آئی سی کا یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر کے مشرق وسطٰی مجوزہ امن منصوبے کے معاشی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے بحرین میں ہونے والی کانفرنس کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس منصوبے کو امریکی صدر نے 'ڈیل آف دی سینچری' کا نام دے رکھا ہے۔ لیکن فلسطینی اسے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ فلسطینی حکام کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل نواز پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

فلسطینی حکام نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے تمام رابطے بھی ختم کر دیے تھے جو تاحال بحال نہیں ہوئے ہیں۔

'دہشت گردی سے تیل کی عالمی ترسیل کو خطرہ ہے'

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ خلیج میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات تیل کی بین الاقوامی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

شاہ سلمان نے سربراہ اجلاس کو بتایا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حالیہ حملے نہ صرف سعودی عرب اور خلیج بلکہ بین الاقوامی تیل کی سپلائی پر براہِ راست حملے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے قریب خلیج عمان میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار تیل بردار جہازوں میں تخریب کاری کی گئی تھی۔ امریکہ اور سعودی عرب نے اس کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔

ایران کی جانب سے ان تمام الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کی۔

مشترکہ اعلامیے سے ایران کا ذکر غائب

مکہ میں بلائے گئے خلیج تعاون کونسل، عرب ممالک اور او آئی سی کے سربراہ اجلاسوں کے بارے میں ایران کا یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ سعودی عرب خطے کے دیگر ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنا چاہتا ہے اور ایسا ہوا تو یہ دراصل اسرائیل کی کامیابی ہوگی۔

البتہ مشترکہ اعلامیے میں حالیہ واقعات میں ایران کو براہ راست موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ ہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

'سیاسی جدوجہد اور دہشت گردی میں فرق ضروری ہے'

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پر دہشت گردی کا لیبل لگانا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں جاری سیاسی جدوجہد کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کو 'اسلامو فوبیا' سے نکلنا ہوگا اور آزادی اظہار رائے کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا جا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ او آئی سی کی ناکامی ہے کہ ہم دیگر ممالک کو یہ باور نہیں کروا سکے کہ توہینِ مذہب سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

'افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے'

دورۂ سعودی عرب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے علاوہ افغانستان، بوسنیا اور مصر کے صدور سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی سے ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

عمران خان نے پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن سے خطے کا امن جڑا ہوا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے افغانوں کی سربراہی میں افغانستان کے سیاسی حل کو ناگزیر قرار دیا ہے اور اس کے لیے پاکستان کی جانب سے حمایت کا یقین بھی دلایا۔

خیال رہے کہ 2019ء او آئی سی کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کا برس بھی ہے۔ 1969ء میں قائم ہونے والی او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی کثیر الملکی تنظیم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG