رسائی کے لنکس

کابل میں موجود امریکی عملے کا محفوظ انخلا اولین ترجیح ہے: بلنکن


امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن ۔ فوٹو اے پی

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے طالبان کی جانب سے افغانستان کے کنٹرول اور کابل پہنچنے کو 'دل دہلا دینے' والا واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی فورسز ملک سے تمام امریکیوں اور امریکہ کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق اینٹنی بلنکن نے اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے پروگرام اسٹیٹ آف دی یونین میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے لیے کابل میں موجود عملے اور امریکہ کی مدد کرنے والوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ان کے بقول، "ہم نے طالبان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ، ہم نے انہیں کہا تھا کہ سفارتی عملے کے انخلا کے عمل کے دوران اگر انہوں نے ہمارے اہلکاروں یا ہمارے آپریشنز میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے جواب میں تیز اور فیصلہ کن ردِ عمل سامنے آئے گا۔"

علاوہ ازیں اتوار کو ایک امریکی عہدیدار نے صورتِ حال کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کابل میں امریکی سفارت خانے سے انخلا کا عمل جاری ہے۔

امریکی عملے کے محفوظ انخلا کے لئے ایک ہزار مزید امریکی فوجی کابل جائیں گے

امریکہ نے اتوار کے روز ایک ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے پیشِ نظر امریکی عملے کو افغانستان سے نکلنے میں مدد دی جا سکے۔

افغان حکومت کے اتنی تیزی سے ختم ہونے پر امریکی عہدیداروں کی یہ تشویش بڑھی ہے کہ امریکہ کے خلاف دہشت گردی کے خطرات میں ممکنہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس معاملے سے آگاہ ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے، کہ امریکہ میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف مارک ملے نے اتوار کے روز سینیٹرز کو بریفنگ کی ایک کال میں بتایا کہ توقع ہے کہ عہدیدار افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے دوبارہ یکجا ہونے کے اس سے پہلے کے اندازے تبدیل کریں گے۔

جون میں پینٹاگان کے چوٹی کے لیڈروں نے کہا تھا کہ انتہا پسند گروپ القاعدہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے دو برس بعد وہاں دوبارہ منظم ہو کر امریکہ کی سرزمین کے لئے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

اے پی کے مطابق معاملے سے آگاہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینیٹرز سے جنرل ملے کی کال پر گفتگو کے دوران بائیڈن انتظامیہ کے دیگرعہدیداروں میں وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی موجود تھے۔

افغانستان کی صورت حال پر امریکی قانون سازوں کی تشویش

افغانستان کی صورت حال پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، امریکی ریاست ٹینیسی سے ری پبلکن پارٹی کی سینیٹر مارشا بلیک برن نے کہا ہے کہ افغانستان کی قانونی حکومت کے عجلت میں خاتمے کے معاملے کو بچایا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان نے ہفتوں کے اندر امریکی افواج کی جانب سے دو عشروں پر محیط حاصل کردہ پیش رفت ختم کر دی ہے۔

اس سلسلے میں سینیٹر بلیک برن نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے امریکی افواج کے عجلت میں انخلا کے فیصلے پر تنقید کی۔ بقول ان کے، بائیڈن کے اس فیصلے کی وجہ سے ہماری قومی سیکیورٹی کو دھچکہ لگا ہے جس کے باعث ہزاروں افغان خواتین اور بیٹوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جنھوں نے بحیثیت مترجم امریکی فوج کو آڑے وقت کے دوران مدد فراہم کی تھی۔ بقول ان کے، یہ معاملہ کسی شدید آفت سے کم نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG