رسائی کے لنکس

طالبان کو بطور افغان حکومت تسلیم نہیں کرنا چاہیے، برطانوی وزیر اعظم


بورس جانسن (فائل فوٹو)

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو طالبان کو بطور افغان حکومت تسلیم نہیں کرنا چاہیے، جب کہ یہ بات واضح ہے کہ بہت جلد افغانستان میں نئی انتظامیہ وجود میں آنے والی ہے۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ''ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک اپنے طور پر طالبان کو تسلیم کرے''۔

اس ضمن میں برطانوی وزیر اعظم نے مغربی ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام اقوام متحدہ یا نیٹو جیسے کسی ادارے کے طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم چاہتے ہیں کہ ایک جیسی سوچ رکھنے والے ممالک اس معاملے پر ایک جیسا مؤقف اختیار کریں، تاکہ ہم افغانستان کو خونریزی اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے سے روک سکیں۔''

طالبان جنگجو اتوار کے روز کابل میں داخل ہوئے، صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں؛ جب کہ امریکی سفارت خانے نے بتایا ہے کہ ملک کے دارالحکومت کا ہوائی اڈہ فائرنگ کی زد میں ہے، جہاں سفارت کار، سرکاری اہل کار اور افغان شہری موجود ہیں۔

جانسن نے کہا کہ برطانوی سفیر ایئرپورٹ پر موجود ہیں، جہاں وہ مستعدی کے ساتھ ویزا درخواستوں کے عمل کو نمٹا رہے ہیں۔

یہ معلوم کرنے پر کہ آیا انہیں طالبان کی جانب سے اتنی تیزی کے ساتھ ملک پر قبضہ کرنے کی توقع تھی، جس پر انہوں نے کہا کہ ''میرے خیال میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ عجلت میں ملک سے انخلاء کے امریکی فیصلے کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہوا''۔

ادھر، ایک بیان میں روس نے کہا ہے کہ وہ ابھی تک طالبان کو بحیثیت افغانستان کا قانونی با اختیار ادارہ تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات سرکاری 'آر آئی اے' خبر رساں ادارے نے بتائی ہے۔

افغانستان کی صورت حال پر برطانوی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسے میں جب کہ برطانوی شہریوں کے انخلا میں مدد دینے کے لیے برطانوی فوج ایک دستہ کابل پہنچ چکا ہے، افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو زیر غور لانے کے لیے برطانوی قانون سازوں کو موسم گرماکی تعطیلات کے درمیان واپس بلایا جا رہا ہے۔

حکام نے لندن میں بتایا کہ بدھ کے روز سے پارلیمان کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس دوران افغانستان کے بحران پر مباحثے کی کارروائی ہو گی۔

ساتھ ہی، وزیر اعظم بورس جانسن نے اتوار کے دن کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔

کابینہ کے اجلاس کے دوران، جانسن نے کہا کہ اس وقت برطانیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اپنے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنایا جائے، ساتھ ہی ان افغان باشندوں کو ویزا جاری کیا جائے جنہوں نے دو عشروں تک ہماری افواج کا ساتھ دیا تھا؛ اور یہ کام آئندہ چند دنوں کے اندر جتنا جلد ہو سکے کیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ برطانوی سفارت خانے کا زیادہ تر عملہ پہلے ہی ملک واپس آ چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG