رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت کا ایک سال: ریلوے اور پی آئی اے کا خسارہ برقرار


معاشی ماہرین کے مطابق جو ادارے سالہا سال سے خسارے کا شکار ہیں، ان کی بہتری صرف جامع حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے — فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر پی آئی اے اور پاکستان ریلوے بد دستور خسارے کا شکار ہیں جب کہ گردشی قرضے 869 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔

پاکستان ریلوے

ریلوے کی کارگردگی میں بہتری ہر حکومت کے لیے ایک چیلنج سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر ریلوے کا خسارہ 32 ارب 56 لاکھ روپے ہے، جس کے بارے میں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 4 ارب روپے کم ہے۔

اگرچہ پاکستان ریلوے ایک سال میں 79 چھوٹے بڑے حادثات کی وجہ سے خبروں میں رہا۔ لیکن ریلوے ترجمان قرۃ العین نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے 12 ماہ میں 60 لاکھ نئے مسافروں نے سفر کے لیے ریلوے کا انتخاب کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ 2017 سے 2018 کے دوران ریلوے کی آمدن 49 ارب سے زائد رقم حاصل کی تھی، لیکن، 19-2018 کے دوران ریلوے کی آمدن 54 ارب روپے سے زائد تھی۔

مئی 2019 میں ریلوے حکام کی طرف سے قائمہ کمیٹی میں بتایا گیا تھا کہ اس ایک سال میں 10 نئی ریل گاڑیاں چلائی گئی ہیں، جن میں سے چھ خسارے کا شکار ہیں۔

ریلوے حکام کی یہ شکایت اپنی جگہ قائم ہے کہ سال 18-2017 میں ریلوے کے لیے مختص شدہ 42 ارب کے بجٹ میں سے صرف 15 ارب 60 کروڑ کی رقم جاری کی گئی۔

پی آئی اے

اس وقت قومی ایئر لائن پی آئی اے کا کل خسارہ 400 ارب روپے سے زائد ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان مسعود تاجور نے وی او اے کو بتایا کہ کل خسارہ پچھلے 15 سال میں یہاں تک پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کے دوران پی آئی اے کی آمدن میں 34 فی صد اضافے کے ساتھ آمدنی 55 ارب روپے رہی۔ لیکن اس کے مثبت اثرات اس لیے سامنے نہیں آ رہے کیونکہ سالہا سال کے خسارے کے صرف مارک اپ پر ہی محکمے کے 3 ارب روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔

مسعود تاجور کا مزید کہنا ہے کہ اگر اتنا خسارہ نہ ہو تو یہی رقم محکمے کی بہتری کے لیے کام آ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی کی بہتری کے لیے بہت سے پرانے روٹس کو بند کر دیا گیا ہے، جس میں ڈھاکہ، نجف اور مسقط کی پروازیں شامل ہیں۔

پی آئی اے حکام کے مطابق، اس کے مقابلے میں مدینہ اور جدہ جانے والی پروازیں بڑھائی جا رہی ہیں، جس سے اس خسارے میں کمی آنے کی امید ہے۔

پی آئی اے انتظامیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وی آئی پی کلچر کی روک تھام سے بھی ادارے کے مالی معاملات میں بہتری کی امید ہے۔

توانائی کا شعبہ

ایک جانب جہاں پاکستان کو کئی سال سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور پیداوار میں فرق کے بحران کا سامنا ہے تو دوسری جانب توانائی سیکٹر میں گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔

پاور ڈویژن کے ایک اعلیٰ افسر نے 'وی او اے' کو بتایا کہ کل گردشی قرضے اس وقت 869 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔

ایک تحقیقی ادارے کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 200 ارب کی ایک قسط جاری کرنا ہے۔ لیکن اس میں سے 50 سے 60 ارب روپے کی ادائیگی کی جانے کی امید ہے۔ جب کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کو رقم کی ادائیگی کیپکو، حبکو اور جینکو سے بلاواسطہ طور پر کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گردشی قرضوں میں کمی کے لیے سکووک بانڈز کے تیسرے راؤنڈ کی مد میں 250 سے 270 ارب روپے ادا کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کا اس تمام معاملے پر اپنا نقطہ نظر ہے اور یہ حکومت کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے سالہا سال سے خسارے کا شکار ہیں، ان کی بہتری صرف جامع حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس میں شفافیت کا پہلو سب سے اہم ہے اور جس کے بغیر حالات میں کسی قابل ذکر بہتری کی امید نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG