رسائی کے لنکس

امریکہ کی نصف آبادی خیراتی کاموں میں کیوں شریک نہیں ہوتی؟


ضرورت مندوں کی امداد کے لیے لگائے گئے کیمپ میں لوگ سامان کے عطیات دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ایک حالیہ سروے کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں امریکی خاندانوں میں خیرات دینے کی شرح کم ہوئی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2018ء میں صرف نصف امریکی گھرانوں نے ہی کسی خیراتی ادارے کو عطیہ دیا یا کسی خیراتی سرگرمی میں حصہ لیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کی انڈیانا یونیورسٹی کے رفاہی کاموں سے متعلق شعبے 'للی فیملی اسکول آف فلانتھروپی' کی ایک تحقیق پر مبنی خبر میں بتایا گیا ہے، گو کہ فلاحی کاموں کے لئے امداد میں ہر سال مزید اضافہ ہو رہا ہے؛ لیکن امداد، چندہ یا خیرات دینے والوں کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔

ہر دوسرے سال کی جانے والی اس تحقیق میں 9 ہزار سے زائد خاندانوں کے خیرات دینے کے انداز کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس سٹڈی کے مطابق سال 2000 میں 66 فیصد خاندانوں نے خیراتی کاموں کے لئے عطیات دیے تھے، جب کہ سال 2018ء میں اس سلسلے کے آخری سروے تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح گھٹ کر 49 اعشاریہ 6 فیصد ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق، خیرات میں کمی کی مختلف وجوہات میں سے ایک معاشرے میں مذہب سے بڑھتی ہوئی دوری ہے۔ لوگوں کا عبادت گاہوں میں جانا کم ہو گیا ہے؛ اس لئے مذہبی مقاصد کے لئے دیے جانے والے عطیات میں کمی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سیکولر مقاصد کے لیے دی جانے والی رقوم یا امداد میں بھی بتدریج کمی آئی ہے۔ جس کا سبب شدید کسادبازاری کے دور میں مالی مشکلات تھیں۔ لیکن معیشت میں بہتری آنے کے باوجود عطیات میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور 2018ء میں یہ 42 فیصد کی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔

للی اسکول میں ریسرچ کے پروگرام کی ایسوسی ایٹ ڈین اونا اوسیلی بتاتی ہیں کہ 'بڑی کساد بازاری' کے زمانے میں مالی مشکلات کی وجہ سے نوجوان امریکی عطیات دینے یا ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی عادت کو اپنا ہی نہیں پائے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ایسے خاندانوں کی، جن کے سربراہوں کی عمریں چالیس سال سے کم ہیں، ان کی صرف ایک تہائی تعداد نے ہی 2018 میں کسی فلاحی کام کے لیے خیرات دینے کو اہمیت دی۔

اوسیلی سوال کرتی ہیں "اگر یہ لوگ مذہبی تقریبات میں نہیں جاتے اور ایسے نیٹ ورکس کا بھی حصہ نہیں ہیں جہاں سے انہیں خیرات یا مدد کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے تو پھر کون سے عوامل رہ گئے ہیں جو انہیں خیرات کی ترغیب دے سکتے ہیں؟" عطیات اور خیرات پر چلنے والے اداروں کے لئے یہ بات تشویش ناک ہے۔

مگر اس تحقیق کو محدود سمجھاجائے تو غلط نہ ہو گا، کیونکہ جہاں یہ سٹڈی اس بات کو جانچتی ہے کہ مختلف خیراتی اداروں کو کتنی رقوم دی گئیں، وہیں اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ 'کراؤڈ فنڈنگ' جیسے منظم مگر نئے اور غیر روایتی طریقوں کے ذریعے کتنی امداد دی گئی۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جو نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ امریکی شہریوں کا ایک دوسرے پر اور مختلف اداروں پر کم ہوتا ہوا اعتبار بھی عطیات دینے سے اجتناب کا باعث ہو سکتا ہے۔ بے اعتباری کی شرح نوجوان نسل میں زیادہ ہے جو آگے جا کر فلاحی اداروں کے خیراتی کاموں کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایسے خاندانوں نے، جن کے سربراہوں کے پاس کالج کی ڈگری ہو اور وہ شادی شدہ ہوں یا پھر ان کی اہلیہ یا شوہر کا انتقال ہو چکا ہو، خیراتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو ترجیح دی۔

تحقیق کے مطابق اس میں دولت کا عمل دخل بھی شامل دکھائی دیا۔ سالانہ دو لاکھ ڈالرز سے زیادہ کمانے والے ہر دس میں سے آٹھ گھرانوں نے 2018ء میں خیرات دی۔ دوسری جانب 50000 سے کم کمانے والے گھرانوں میں یہ تعداد گھٹ کر ہر دس میں چار گھرانوں تک محدود نظر آئی۔

یونیورسٹی آف شکاگو میں معاشیات کے استاد جان لسٹ، جو لوگوں کی خیراتی سرگرمیوں کی عادت پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آہستہ آہستہ دینے کی عادت عام لوگوں سے ہٹ کے ایسے لوگوں کی خاصیت بنتی جا رہی ہے جن کے پاس بے تحاشہ دولت ہے۔ ان کے خیال میں یہ خطرناک بات ہے۔

وہ کہتے ہیں، "امیر افراد ان ہی مقاصد کے لئے رقم خرچ کرتے ہیں جنہیں امرا اہمیت دیتے ہیں، امیر بقابلہ غریب یا مڈل کلاس کے خیرات کرنے میں بہت فرق ہے اور ان کے مختلف مقاصد پر خرچ کرنے کے مختلف نتائج برآمد ہوتے ہیں"۔

امریکی بلیکھرب پتی اور فلاحی کاموں پر بڑی رقوم خرچ کرنے والے ایمزون کے سربراہ کی سابقہ اہلیہ میکنزی اسکاٹ کا کہنا ہے کہ ناقدین کے خیال میں امیر افراد کا فلاہی کاموں کے لئے اتنی خطیر رقوم کا نکالنا ایک ایسے معاشرے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں آمدنی میں شدید عدم مساوات پائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG