رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کی حکومت کی دو سالہ کارکردگی، کیا کھویا کیا پایا؟


فائل فوٹو

پاکستان میں حکمراں جماعت تحریکِ انصاف کی حکومت کو دو سال مکمل ہونے پر وفاقی حکومت نے اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

حکومتی وزرا، مشیروں اور معاونین نے منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیاسی، خارجہ، معاشی اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم کامیابیوں کے دعوے کیے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعتیں حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے حکومتی کارکردگی اور وزرا کی پریس کانفرنس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور بدھ کو مفصل جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے دو سالہ دورِ حکومت میں ہمیں ملکی تاریخ کی بدترین معیشت دی اور کشمیر سے سعودی عرب تک خارجہ پالیسی ناکام رہی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور معاون خصوصی ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی پیش کی۔

ہر وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے اپنے محکمے کی کارکردگی گنوائی۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ جمہوریت کے بنیادی فرض کے تحت حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایسی ریاست بنائیں جس میں عوام پہلی ترجیح ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر لڑنا ہے۔ اس وقت 'ففتھ جنریشن وار' چل رہی ہے۔ ہمارے دشمن معیشت کے درپے ہیں اور ناامیدی و افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اس ملک کے ہر شہری، صحافی اور وزیر کو ففتھ جنریشن کی جنگ لڑنا ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے مشکل وقت اور چیلنجز پر قابو پالیا ہے۔ اب قدرے بہتر دور میں داخل ہو رہے ہیں اور ہمارا اچھا وقت شروع ہو چکا ہے۔

بھارت پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہا: شاہ محمود

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بھارت کی پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیلا جائے لیکن بھارت اپنی اس کوشش میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ہیں۔ چین نے بھارت کے ان عزائم کو چیلنج کیا، نیپال بھی کھڑا ہوا اور بنگلہ دیش بھی مخالفت میں سامنے آیا۔ اس طرح بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث از خود تنہائی کی طرف جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے چین کے ساتھ تذویراتی شراکت داری کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا۔ ترکی کے ساتھ دیرینہ اور عمدہ تعلقات استوار کیے گئے، یورپین یونین کے ساتھ 'اسٹریٹجیک انگیجمنٹ' منصوبہ طے کیا اور افریقہ کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے دنیا می‍ں اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی ہے جب کہ وزیرِ اعظم کے بارہا کہنے پر افغانستان میں سیاسی حل کو فوجی حل پر ترجیح دی گئی۔ ان کے بقول امریکی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کے افغان امن کے لیے کردار کو کلیدی قرار دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں جلد فریقین کے مابین امن مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ یہ سب ہماری حکومت آنے پر ہوا اور جنوبی ایشیا حکمتِ عملی آئی تھی جس میں پاکستان کو مسئلہ کا حصہ قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر اور وہاں بھارت کے ظلم و ستم کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ ایک سال میں تین بار اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا۔ او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کے چار اہم اجلاس ہو چکے ہیں۔ امریکہ، یورپین یونین، برطانیہ، ہیومن رائٹس کونسل، اقوامِ متحدہ ہیومن رائٹس کمیشن میں کشمیر سرفہرست رہا۔

کپتان لمبی اننگز کھیلنے کے لیے مکمل تیار ہے: اسد عمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ کرونا وبا پاکستان کے لیے ہی نہیں پوری دنیا کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ اس وبا نے دنیا کے شعبۂ صحت اور معیشت پر شدید دباؤ بڑھا۔

ان کے بقول کرونا وبا کے باعث امریکہ میں شرح نمو 30 فی صد، برطانیہ میں 20 فی صد سکڑ گئی لیکن پاکستان نے اس وبا کے خلاف کامیابی سے اس مشکل کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران پاکستان میں تمام جماعتیں، میڈیا اور دیگر لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے رہے لیکن وزیرِ اعظم عمران خان کو پسے ہوئے طبقے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا احساس تھا۔

اسد عمر نے کہا کہ عمران خان تمام ریاستی اداروں اور اکائیوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اپوزیشن کے لیے بری خبر یہ ہے کہ کپتان کریز پر سیٹ ہو گیا ہے، کپتان اب لمبی اننگز کھیلنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

برآمدات میں چھ فی صد اضافہ کیا: حماد اظہر

وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ دو سال کے دوران حکومت کی کفایت شعار پالیسی کے تحت کچھ اداروں کو مختلف اداروں میں ضم کیا۔ اسی طرح ٹیکسوں کی شرح کو کم کیا گیا۔ درآمد کو کم اور برآمد بڑھانے پر زیادہ توجہ دی اور ملک سے اسمگل شدہ فون ختم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران اشیا خور و نوش اور ادویہ میں کسی قسم کی کوئی قلت نہیں آنے دی، شوگر مافیا کے خلاف ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایکشن لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کھاد کی کھپت بڑھنے کے باعث دو پلانٹس فعال کیے گئے ہیں جس کے باعث کھاد کی مجموعی قیمت میں 294 سے 135 روپے کمی ہوئی ہے۔

ان کے بقول برآمدات میں اضافے کی شرح چھ فی صد ہے۔ الیکٹرک وہیکل پالیسی لے کر آئے ہیں، اب پاکستان سے اسمارٹ فونز کی برآمدات شروع ہونے جا رہی ہے۔

حماد اظہر نے بتایا کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی 28 شرائط میں سے 14 پر مکمل عمل درآمد کر لیا ہے جب کہ 11 کی جزوی تکمیل ہو چکی ہے۔

ڈوبتی معشیت کو پہلے سہارا دیا پھر استحکام لائے: مشیر خزانہ

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جب حکومت آئی تو ملک میں بحرانی کیفیت تھی۔ 20 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر آدھے رہ گئے تھے۔ ملک کو دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا۔ حکومتی اقدامات کے باعث بحرانی کیفیت سے پہلے نمٹے اور پھر معشیت میں استحکام لائے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومتی اخراجات کو کم کیا اور فوج کے اخراجات کو منجمد کیا۔ ماضی کے قرضوں کا بوجھ بھی کم کیا اور پانچ ہزار ارب روپے کے قرضے واپس کیے۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ حکومت نے برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات دیں۔بیرونی خسارے کو 20 ارب ڈالرز سے کم کر کے تین ارب ڈالرز کر دیا جب کہ زراعت کے لیے 280 ارب روپے کا پیکج دیا۔ 192 ارب روپے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے اور 15 ارب روپے کی رمضان میں اشیا پر سبسڈیز دی گئیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کرونا کی وجہ سے ٹیکس ریونیو متاثر ہوا۔ کرونا سے پہلے ٹیکس بڑھنے کی سطح 17 فی صد تھی اس سب کے باوجود حکومت نے کرونا سے متاثرین کے لیے 240 ارب کا بہترین پیکج دیا۔

ان کے بقول کمزور طبقے تک فوری نقد رقم پہنچائی گئی، حکومت نے بلاتعصب ایک کروڑ 60 لاکھ پاکستانیوں کو امداد دی، 250 ارب روپے تقسیم ہوئے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے رواں سال اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا۔ بلوم برگ اور موڈیز سمیت عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو بہتر مارکیٹ گردان رہے ہیں۔

'احساس کفالت پروگرام حکومت کا بہترین منصوبہ ہے'

وزیرِ اعظم کی معاون خصوصی اور احساس پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے احساس کفالت پروگرام کو حکومت کا بہترین منصوبہ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ گریجویٹ کو اسکالر شپ، ضرورت مندوں کو ہنگامی کیش، لنگر خانوں کا قیام، بلاسود قرضوں کی فراہمی اسی پروگرام کے تحت کی جارہی ہے۔

حکومتی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام سے 70 لاکھ خاندانوں کو تعاون فراہم کیا گیا جب کہ کرونا وبا کے دوران ایک کروڑ ساٹھ لاکھ خاندانوں کو 203 ارب کی نقد امداد فراہم کی جس سے 10 کروڑ 90 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔

ان کے بقول احساس بلاسود قرضوں کے پروگرام کا حجم 42 ارب 65 کروڑ روپے ہے، چھوٹے کاروبار کے لیے 100 پسماندہ اضلاع کے مستحقین میں ماہانہ 80 ہزار روپے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہی۔، اسی طرح احساس انڈر گریجویٹ اسکالر شپ پروگرام میں 20 ارب روپے مالیت کی دو لاکھ اسکالر شپس دی جارہی ہیں جب کہ 15 ارب روپے مالیت کا احساس آمدن پروگرام بھی شروع کیا جاچکا ہے۔

اپوزیشن حکومتی کارکردگی سے مایوس

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزرا کی پریس کانفرنس کے بعد اپنے ایک ٹوئٹ میں کاہ کہ حکومت نے اپنے دور میں ہمیں ملکی تاریخ کی بدترین معیشت دی۔ اس عرصے کے دوران خارجہ پالیسی ناکام رہی جب کہ جمہوریت اور انسانی حقوق نشانے پر رہے اور ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہوئی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ایک بیان میں تبدیلی سرکار کو تباہی سرکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو سال میں ملک کو ایسی نہج پر کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی آسان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو سال میں حکومت نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس پر وزرا کو پریس کانفرنس کرنا پڑی۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کی دو سالہ پارلیمانی کارکردگی افسوس ناک رہی، دو سال میں 38 آرڈیننس جاری کیے گئے، صوبوں کے ساتھ غیر آئینی رویہ اپنایا گیا، تحریک انصاف کی ناکام حکومت سے عوام مایوس ہو چکی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس حکومت نے عوام کو ایسا کون سا ریلیف دیا ہے؟ عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری دینے والی تباہی سرکار بے نقاب ہو چکی ہے۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ دو سال میں معیشت، خارجہ پالیسی، گورننگ اور دیگر شعبوں میں ناکامیوں کے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں، آج حکومت نے اپنی ناکامیوں کا رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 90 دن میں ملک سے کرپشن ختم کرنے دے دعویداروں کا ہر منصوبہ کرپشن کے نظر ہو رہا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے دو سال میں 270 ارب کی کرپشن کی نشاندہی کی اور ترقی کی شرح منفی ہو چکی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ اس وقت روپیہ کے مقابلے میں ڈالر 170 کی بلند سطح پر ہے۔ مہنگائی کی شرح 10 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔ دو سال میں پیٹرول کی بنیادی قیمتوں میں 90 فی صد اضافہ کیا گیا اور ملکی قرضوں میں37 فی صد جب کہ بیرونی قرضوں میں 50 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG