رسائی کے لنکس

میڈیا پر قدغنیں، اپوزیشن جماعتوں کا عدالت سے رجوع کا اعلان


متحدہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کو اپوزیشن جماعتیں ملک کے چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں تاریخی جلسے منعقد کریں گی (فائل فوٹو)
متحدہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کو اپوزیشن جماعتیں ملک کے چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں تاریخی جلسے منعقد کریں گی (فائل فوٹو)

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے معاملے پر عدالت سے رجوع کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا سینسر شپ کو اظہار رائے پر قدغن کی بدترین صورت قرار دیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کا موقف ہے کہ آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کی ضمانت آئین پاکستان میں دی گئی ہے۔ موجودہ حکومت میڈیا سینسر شپ کے ذریعے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے، جس کی کسی جمہوری ملک میں گنجائش نہیں ہے۔

میڈیا سینسر شپ پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت پر مشتمل 'رہبر کمیٹی' کے اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں مسلم لیگ نواز کے احسن اقبال، سردار ایاز صادق، پاکستان پیپلز پارٹی کے نیر حسین بخاری، فرحت اللہ بابر، جمعیت علماء اسلام ف کے اکرم خان درانی، نیشنل پارٹی کے میر کبیر شاہی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ اور دیگر شریک تھے۔

حالیہ دنوں کے دوران مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں دکھانے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے۔
حالیہ دنوں کے دوران مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں دکھانے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں میڈیا اداروں اور صحافیوں کو حکومتی اقدامات کے نتیجے میں قدغنوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کے قبائلی اضلاع کی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے میڈیا بلیک آؤٹ کے بعد اب اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی سینسر شپ کا سامنا ہے۔

حال ہی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ٹی وی انٹرویوز کو چند منٹ نشر ہونے کے بعد روک دیا گیا۔

مریم نواز کے عوامی اجتماعات کی کوریج کرنے والے کچھ نجی ٹی وی چینلز نے بھی نشریات بند ہونے کی شکایات کی تھیں۔ ملک میں میڈیا کے نگران ادارے 'پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے اس قسم کے کسی بھی اقدام سے لاعلمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی صحافتی تنظیمیں اور سول سوسائٹی صحافتی قدغنوں پر سراپا احتجاج ہیں۔
پاکستان کی صحافتی تنظیمیں اور سول سوسائٹی صحافتی قدغنوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو بعض مواقعوں پر اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے گئے۔ تاہم، کسی نجی ٹی وی چینل کی نشریات روکنے یا کیبل نیٹ ورک سے ہٹائے جانے کے باقاعدہ احکامات نہیں دیے گئے۔

اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ آئین میں درج عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ لہذٰا، اس ضمن میں باقاعدہ پٹیشن کے ذریعے سپریم کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے گی۔

رہبر کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ اظہار رائے پر قدغن جمہوری عمل کے خلاف ہے اور موجودہ حکومت نے سینسر شپ لاگو کی ہوئی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو حکومتی اقدامات کے ذریعے ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلز کو کیبل نیٹ ورک سے آف ایئر کر دیا جاتا ہے۔

نیر بخاری کے مطابق، اپوزیشن جماعتیں میڈیا کی آزادی کے لیے ہر دستیاب فورم سے رجوع کریں گی۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان میں آزاد صحافت کے کردار کو محدود کیا جا رہا ہے۔ صحافتی اداروں پر پابندی کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ ملک میں میڈیا کو آزادانہ کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔

میاں افتحار حسین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی یہ تاریخی پٹیشن ہوگی، جس میں یہ استدعا کی جائے گی کہ سینسر شپ کے خاتمے، صحافیوں کے تحفظ اور صحافتی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے حکم جاری کیا جائے۔

ان کے بقول، کسی ملک و معاشرے میں اگر صحافت آزاد نہیں ہوتی تو اس کی جگہ پروپگینڈا لے لیتا ہے جس کے نتیجے میں ملک اور معاشرہ حادثات کا شکار ہوتا ہے۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اپوزیشن کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان واشنگٹن میں بھی اپوزیشن کے خلاف ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ملک میں اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں کا بلیک آؤٹ حکومت مخالف آوازوں کو بند کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

عثمان کاکڑ نے مزید کہا ہے کہ میڈیا سینسر شپ اور صحافیوں پر قدغنیں کس اتھارٹی کی جانب سے لگائی جا رہی ہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو اپوزیشن جماعتیں ملک کے چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں تاریخی جلسے منعقد کریں گی۔ لیکن حکومت کی جانب سے میڈیا اداروں کو اپوزیشن کی سرگرمیاں نہ دکھانے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے میڈیا سینسر شپ کی تردید کی جا رہی ہے۔ وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق کا کہنا ہے کہ ملک میں میڈیا مکمل آزاد ہے۔ البتہ، قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

میڈیا پر قدغنوں کے خلاف صحافتی تنظیمیں بھی سراپا احتجاج ہیں اور گزشتہ ہفتے ملک کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے یوم سیاہ بھی منایا تھا۔

XS
SM
MD
LG