رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان سے افغان شہریوں کی سفری دستاویزات کی چھان بین کے بغیر واپسی


فائل فوٹو

پاکستان کے قبائلی ضلعے خیبر میں طورخم کی سرحدی گزر گاہ سے ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندوں کو سفری دستاویزات کی چھان بین کے بغیر وطن واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ضلع خیبر کے انتظامی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں پھنسے افغان باشندے نصف شب کے بعد ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں جمع ہونا شروع ہوئے جب کہ صبح کے وقت یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔

طور خم کی سرحدی گزر گاہ کے حکام کے مطابق اس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کے سفری دستاویزات کی چھان بین انتظامیہ کے لیے ممکن ہی نہ رہا لہذا پشاور اور اسلام آباد میں اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لے کر سرحدی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا۔

انتظامی عہدیداروں نے اس سلسلے میں افغانستان کے سرحدی حکام سے بھی رابطہ کیا جس کے بعد سرحد مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سرحدی پابندیاں ختم ہوتے ہی ہزاروں افغان باشندے، جو کئی روز سے پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے۔ اپنی اپنی منزل کے طرف روانہ ہوئے۔

'افغان حکام نے یومیہ ایک ہزار افراد کی واپسی کی تجویز دی تھی'

لنڈی کوتل کے سینئر صحافی ابوذر آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغان حکام نے روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار لوگوں کو افغانستان داخل ہونے کی تجویز دی تھی کیونکہ ان لوگوں کے لیے سرحد پار کرونا وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

ان کے بقول وطن واپس آنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر افغان حکام نے ان لوگوں کو طورخم کے قرنطینہ مراکز کے بجائے اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کو پاکستان میں پھنسنے والے افغان شہریوں میں سے صرف ایک ہزار افراد کو افغانستان جانے کی اجازت دی گئی تھی جب کہ ہزاروں لوگ لنڈی کوتل اور نواحی علاقوں میں رک گئے تھے۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے رات مساجد اور حجروں میں گزاری۔ کثیر تعداد میں لوگ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ہوٹلوں میں رہنے ہر مجبور ہوئے۔

'کھانے پینے کے اشیا ختم ہو گئی تھیں'

ابوذر آفریدی کے مطابق لنڈی کوتل میں اتنے لوگ جمع ہو گئے تھے کہ اس سرحدی قصبے کے ہوٹلوں میں کھانے پینے کے اشیا ختم ہو گئی تھیں۔ مقامی قبائلی لوگوں نے روایتی مہمان نوازی پر عمل پیرا ہو کر ان افراد کو کھانے پینے اور رہنے کے سہولیات فراہم کیں۔

وفاقی وزارت داخلہ کے فیصلے کے مطابق پاکستان سے افغانستان واپس جانے والوں کا سلسلہ جمعرات تک جاری رہے گا۔

پاکستانی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں

رپورٹس کے مطابق افغانستان میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں پاکستانی سرحد پار پھنسے ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد کابل، جلال آباد اور قندھار میں پاکستانی سفارت کاروں سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تاہم ان افراد کی شکایت ہے کہ ان کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا جا رہا۔

کابل میں ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے منسلک بخت روان نے وائس آف امریکہ کو ٹیلیفون پر بتایا کہ افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی موجود ہیں اور یہ لوگ جلد از جلد واپس جانے کے خواہش مند ہیں مگر پاکستانی سفارت کاروں کی جانب سے ان کو کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

انہوں نے حکومت سے افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ افغانستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کے علاوہ طلبا بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

افغانستان کے شہر جلال آباد میں موجود پاکستانی طلبا میں شامل کامران خان کا تعلق خیبرپختونخوا ضلع بونیر کے علاقے امازئی سے ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تمام طلبا تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز کے بند ہونے کے بعد کچھ دنوں کے لیے ہوٹلوں میں رہے مگر پیسے ختم ہونے پر کچھ لوگ دوستوں کے گھروں اور حجروں میں رہ رہے ہیں۔

کامران خان کے مطابق زیادہ تر طلبا کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے انسانی ہمدردی کے بنیاد پر ان کی وطن واپسی کی اپیل کی۔

'پاکستانی باشندوں کی مشکلات کا احساس ہے'

افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ حکومت کو پار پھنسنے والے پاکستانی باشندوں کی مشکلات کا احساس ہے۔

ان کے بقول ان کی جلد از جلد واپسی کے لیے کو شش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی وطن واپسی کے بارے میں فیصلہ پاکستان میں رکے ہوئے افغان باشندوں کی واپسی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

محمود اسلم وزیر نے کہا کہ افغانستان سے پاکستانی باشندوں کو واپسی کے بعد قرنطینہ مراکز میں رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے طورخم، لنڈی کوتل اور جمرود کے علاوہ پشاور میں مراکز قائم کرنے کا کام جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG