رسائی کے لنکس

آئندہ ہفتے اہم اجلاس ہو گا، جس میں حکومت مخالف مگر معیشت کے بارے میں صاحب الرائے راہنما اور ماہرین بھی شریک ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادیات کے سربراہ شیخ قیصر کی وائس آف امریکہ سے گفتگو۔

اسد حسن

ایسے میں جب کہ پاکستان کے اندر معاشی صورتحال پر حکومت مخالف سیاسی راہنماؤں اور بعض تجزیہ کاروں کے جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، حکومت ملک کے لیے ایک ایسی دیر پا معاشی حکمت علمی پر کام کر رہی ہے جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو، تاکہ معاشی پالیسیوں میں استحکام رہے۔

یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادیات کے سربراہ شیخ قیصر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ایک اہم اجلاس آئندہ منگل یا بدھ کے روز ہو گا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے معاشی امور پر گفتگو کرنے والے راہنما اسد عمر اور پاکستان پیپلز پارٹی سے سابق وزیرخزانہ سید نوید قمر اور نفیسہ شاہ شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اس اجلاس میں ان ماہرین کو بھی شامل کریں جو معشیت پردسترس رکھتے ہیں اور اس بارے میں مختلف فورمز پر گفتگو کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ چیمبرز کے عہدیداروں سے بھی ان کی تجاویز لی جائیں گی۔ ان کے بقول اس کا مقصد ایک طویل المدت اقتصادی ایجنڈا ترتیب دینا ہے۔

یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ہوں گی؟ اس بارے میں بعض معروف تجزیہ کار اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔

قیصر بنگالی سوشل پالیسی ڈیویلپمنٹ سنٹر کے ڈین اور ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل المدت معاشی پالیسی کے لیے جس طرح کے سیاسی عزم اور پیشہ وارانہ ذہانت کی ضرورت ہے، دونوں مفقود ہیں۔ ان کے بقول معیشت کے بحالی کے لیے پورا ڈھانچہ از سر نو تشکیل دینا ہو گا۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی ماہر معاشیات ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی کوشش کا مقصد آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول چونکہ پاکستان کی فوج جیسے طاقتور ادارے سمیت ہر طرف سے معیشت پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس لیے یہ اقدام لوگوں کو کچھ کرتا دکھانے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تین صوبوں میں حکمران جماعتیں ہیں۔ اگر وہ معاشی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہوتیں تو اپنے منشور کے مطابق صوبائی سطح پر کئی اقدامات کر چکی ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں معیشت کو دستاویزی شکل نہیں دی جاتی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کیا جاتا اور زراعت سمیت تمام شعبوں کو بلا امتیاز آمدن پر ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جاتا، کالا دھن سفید کرنے کی سکیمیں بند نہیں کی جاتیں ک، اس وقت تک کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

مزید تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کریں۔۔۔۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG