رسائی کے لنکس

’پاک امریکہ عسکری روابط کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا‘


(فائل فوٹو)

اجلاس میں جنرل کیانی نے بتایا کہ امریکہ سے پاکستان کو فوجی امداد کے بجائے اقتصادی مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ یہ موقف مارچ 2010ء میں پاک امریکہ اسٹرایٹیجک ڈائیلاگ کے موقع پر پاکستان کی طرف سے اپنائے گئے اُس موقف سے مطابقت رکھتا ہے جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ امریکہ کی پاکستان سے فوجی تعاون کی مد میں مختص امداد کو اقتصادی ترقی کے لیے استعمال میں لایا جائے تاکہ اس سے عام پاکستانی مستفید ہو سکیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر صدارت جمعرات کو کور کمانڈروں کے اجلاس میں ملک کو درپیش چیلنجوں اور امریکہ کے ساتھ فوجی تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق جنرل کیانی نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ پاک امریکہ عسکری روابط کو دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن اور پارلیمان کی مشترکہ قرارداد کی روشنی میں ان روابط کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔

اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ۔
اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ۔

اُنھوں کے کہا کہ ان وجوہات کی بنیاد پر پاکستانی فوج نے ملک میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی ہے۔ پاکستانی اور امریکی عہدے دار بھی فوجیوں کی امریکہ واپسی کی تصدیق کر چکے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نئے ہتھیاروں اور فرنٹیئر کور کے دستوں کی کچھ تربیت کے علاوہ پاکستانی فوج نے کبھی امریکہ سے تربیت کی فراہمی کی پیش کش قبول نہیں کی۔

جنرل کیانی نے اجلاس کے شرکاء کو ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد متعدد غیر ملکی عسکری و سیاسی عہدیداروں سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے القاعدہ کے سربراہ کی پناہ گاہ پر ایک خفیہ کارروائی کر کے اُسے ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کو اندھیرے میں رکھ کر کی گئی یک طرفہ امریکی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بظاہر گشیدہ پائی جا رہی ہے۔

فوجی کمانڈروں کو امریکہ کے ساتھ جاری انٹیلی جنس تعاون کی نوعیت کے بارے میں بھی بتایا گیا اور کہا گیا کہ خفیہ معلومات کا تبادلہ سختی سے دوطرفہ تعاون کی بنیاد پر شفاف انداز میں کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے کے عہدیداروں کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ کوئی خفیہ ادارہ اپنے طور پر پاکستان میں کسی قسم کی کارروائی نہیں کر سکتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں 30 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی تعینات ہیں۔
شمالی وزیرستان میں 30 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی تعینات ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کے بارے میں جنرل کیانی نے فوجی کمانڈروں کو بتایا کہ اس بارے میں پاکستانی فوج اپنی مربوط منصوبے پر عمل پیرا ہے اور کسی علاقے میں مخصوص وقت میں کارروائی کے حوالے سے اُس پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

اُنھوں نے شمالی وزیرستان کے عوام سے کہا کہ وہ علاقے میں موجود تمام غیر ملکیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیں۔ جنرل کیانی نے کہا کہ قانونی طور پر یہ غلط ہے کہ کسی غیر ملکی کو اپنی لڑائی کے لیے زمین استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

فوج کے سربراہ نے کہا فوج بارہا اپنے اس موقف کو دہرا چکی ہے کہ کسی بھی صورت حال میں ڈرون حملے قابل قبول نہیں اور اس بارے میں کوئی شق نہیں ہونا چاہیئے۔

’پاک امریکہ عسکری روابط کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا‘
’پاک امریکہ عسکری روابط کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا‘

بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے حکومت ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

اجلاس میں جنرل کیانی نے بتایا کہ امریکہ سے پاکستان کو فوجی امداد کے بجائے اقتصادی مدد کی زیادہ ضرورت ہے ۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ یہ موقف مارچ 2010ء میں پاک امریکہ اسٹرایٹیجک ڈائیلاگ کے موقع پر پاکستان کی طرف سے اپنائے گئے اس موقف سے مطابقت رکھتا ہے جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ امریکہ کی پاکستان سے فوجی تعاون کی مد میں مختص امداد کو اقتصادی ترقی کے لیے استعمال میں لایا جائے تاکہ اس سے عام پاکستانی مستفید ہو سکیں۔

جنرل کیانی نے اجلاس میں بتایا کہ یہ خبریں بالکل غلط ہیں کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران امریکہ کی طرف سے فوج کو 13 سے 15 ارب ڈالر ملے۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی مد میں امریکہ کی طرف سے ملنے والے اتحادی اعانتی فنڈ سے پاکستان کو کل 13 ارب ڈالر کی متوقع امداد میں سے اب تک آٹھ ارب ساٹھ کروڑ ڈالرحکومت پاکستان کو ملے ہیں اور ان میں حکومت نے گذشتہ دس سالوں کے دوران فوج کو صرف ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر دیئے ہیں جب کہ نسبتاً کم رقم بحری اور فضائی افواج کو بھی دی گئی جب کہ اس عرصے کے دوران چھ ارب ڈالر کی رقم حکومت پاکستان نے بجٹ کی مد میں خرچ کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک کی فوجی قیادت کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت کی بجائے ملک کے جمہوری نظام کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔

طالبان شدت پسندوں نے کراچی میں بحریہ کی مہران بیس پر حملے میں دو طیاروں کو بھی تباہ کیا۔
طالبان شدت پسندوں نے کراچی میں بحریہ کی مہران بیس پر حملے میں دو طیاروں کو بھی تباہ کیا۔

ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کے شرکاء نے ایبٹ آباد واقعے کے نتیجے میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے اور اس سے ہونے والے جانی نقصانات پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام سکیورٹی ادارے گو کہ پہلے ہی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں تاہم انھیں مزید موثر اقدمات کرنے کی ضرورت ہے اور فوج ان کی ہر ممکن مدد کے لیے موجود ہوگی۔

شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں فوج کی طرف دی جانے والے بریفنگ اور بعد ازاں تمام واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے کے باوجود کچھ طبقے اپنی جانبدار سوچ کی وجہ سے جان بوجھ کر مسلح افواج خصوصاً پاک فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بیان میں اسے فوج اور دیگر ریاستی اداروں اور خصوصاً پاکستانی عوام کے درمیان نفاق پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوام کی حمایت دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے فوج کی اولین ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG