رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت ضرورکوئی واردات کرے گا، پاکستان تیار ہے: عمران خان


وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ "میں فوج کے سپہ سالار جنرل باجوہ کو آگاہ کر چکا ہوں، اور انہوں نے کہا ہے کہ فوج اس تیار ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ضرور کوئی واردات کرے گا، جس کا جواب دینے کے لیے پاکستان تیار ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو کشمیر میں جنگ بندی لائن پر مارے جانے والے دو پاکستانی فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہی۔

پنڈ دادن خان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’’میں فوج کے سپہ سالار جنرل باجوہ کو اس بارے میں آگاہ کر چکا ہوں، اور انہوں نے کہا ہے کہ فوج اس کے لیے تیار ہے۔"

بھارتی حکومت کی جانب سے شہریت کا نیا قانون نافذ کرنے سے متعلق عمران خان نے کہا کہ ’’لوگ اس کے خلاف اٹھیں گے اور پاکستان کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔"

اس سے قبل پاکستان اور بھارت کی فوج کے درمیان جنگ بندی لائن پر گولہ باری کے تبادلے میں دونوں اطراف سے تعلق رکھنے والے پانچ فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوئے۔

جمعرات کے روز پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے فائربندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں ’’پاکستان آرمی نے حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی ایک چوکی تباہ کی، جس میں ایک افسر سمیت تین بھارتی فوجی مارے گئے؛ جبکہ دیوا سیکڑ میں بھارتی فائرنگ سے پاکستان آرمی کے ایک جونئیر کمیشن افسر سمیت دو فوجی مارے گئے‘‘۔

بھارتی فوج نے اپنے ایک فوجی افسر اور ایک عام شہری کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

جنگ بندی لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ شہری دفاع کی جانب سے کچھ سرحدی علاقوں میں ممکنہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کے بارے میں اشتہارات چھپوا کر تقسیم کیے گئے۔

سرحدی علاقے نکیال سے محکمہ شہری دفاع کے ایک اہلکار منیر ملک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فائر بندی لائن پر کشیدگی کے پیش نظر عوام کو کسی بھی ممکنہ فضائی حملے سے محفوظ رہنے کے لیے محکمہ شہری دفاع کی طرف سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے شہری دفاع و ہنگامی صورت حال احمد رضا قادری نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سات لاکھ آبادی ایل او سی کے قریب رہتی ہے، جو گولہ باری سے متاثر ہوتی ہے، جن میں ایک لاکھ چھوٹے ہتھیاروں کی زد میں ہے۔

قادری نے کہا کہ پاکستانی کشمیر کی حکومت نے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائربندی لائن کے قریب بسنے والے اپنے گھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان ایل او سی کے مختلف سیکڑوں میں جمعرات کے روز بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا۔

دونوں ملک فائربندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG