رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کے قیام میں 30 جون تک کی توسیع کا خیر مقدم


اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے ’یو این ایچ سی آر‘ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں موجودہ اندارج شدہ 14 لاکھ افغان مہاجرین کے معاملے کے حل کے لیے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

’یو این ایچ سی آر‘ نے پیر کی شب ایک بیان میں حکومت پاکستان کی طرف سے اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کے قیام میں 30 جون 2018 تک توسیع کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

تاہم ’یو این ایچ سی آر‘ نے افغان مہاجرین کی رضا کارانہ اور محفوظ واپسی کے وقت یا ’ٹائم فریم‘ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں حل تجویز کیا جانا ابھی باقی ہے۔

پاکستان میں ’یو این ایچ سی آر‘ کے نمائندے ریویندری مینکیویلا نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں اور اُن کی میزبانی کرنے والی پاکستانی آبادیوں کی مدد کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس معاملے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی نے وی او اے کو بتایا کہ افغانوں کی رضاکارانہ واپسی ترجیحی حل ہے لیکن یہ عمل مرحلہ وار ہونا چاہیے تاکہ واپس جانے والے افغان اپنے وطن میں ٹھہر سکیں۔

واضح رہے کہ موسم سرما کے تعطل کے بعد رواں ماہ یکم مارچ سے پاکستان میں مقیم اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کی اُن کے آبائی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہوا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 14 لاکھ اندارج شدہ افغان پناہ گزین موجود ہیں جب کہ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 13 لاکھ ایسے افغان بھی ملک میں مقیم ہیں جن کے کوائف کا اندارج نہیں ہے۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق کے مطابق 2002ء سے اب تک 43 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG