رسائی کے لنکس

علاقائی سلامتی پر وزیر اعظم عباسی کے کابل میں افغان قیادت سے مذاکرات


افغان صدر اشرف غنی وزیرِ اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا استقبال کر رہے ہیں۔

دورے کے دوران انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق معاملات پر بات چیت کے علاوہ سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی جمعے کو ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں اُن کے افغان قیادت سے مذاکرات میں حصہ لیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور صدر اشرف غنی کے درمیان کابل کے صدارتی محل میں مذاکرات ہوئے اور پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کی گئی معلومات کے مطابق دونوں راہنماؤں نے علاقائی سلامتی کے مشترکہ مقصد کو ’’کونیکٹیوٹی‘ یا خطے کی ربط کاری کے ذریعے حاصل کرنے پر اتفاق کیا۔

اس دورے میں وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ اور صوبہ خیر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا بھی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ ہیں۔

اس دورے میں وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ اور صوبہ خیر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا بھی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ ہیں۔

افغان صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اُن کے وفد نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حزب اسلامی سربراہ گلبدین حکمت یار کے علاوہ حزب وحدت کے استاد محمد محقق سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں کی اگرچہ تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئی لیکن انھیں افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے اس دورے کے دوران افغان امن عمل خاص طور پر صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان مذاكرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور اُن کے خلاف ناکافی کارروائی کے دو طرفہ الزامات پر کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ ہے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر افغان طالبان کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں جو افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

جمعے کی دوپہر پاکستانی وزیرِ اعظم کابل کے ہوائی اڈے سے جب افغان صدارتی محل پہنچے تو صدر اشرف غنی نے اُن کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مہمان وزیرِ اعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے افغان صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اس دورے کے آغاز سے قبل پاکستان کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق معاملات پر بات چیت کے علاوہ سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے پر بھی تبادلہ خیال کرے گی۔

ریاست کی سطح پر مذاكرات کے آغاز کے لیے صدر اشرف غنی نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کو اس دورے کی دعوت دی تھی۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورے سے محض ایک روز قبل جمعرات کو افغان سیکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے افغان سرحدی صوبے کنٹر میں بمباری کی جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستانی فورسز نے توپوں سے لگ بھگ 600 گولے داغے۔

تاہم افغان حکام کے مطابق اس بمباری میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی طرف سے مبینہ فضائی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر کریں گے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو رات گئے ایک بیان میں ان الزامات کو رد کیا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے افغانستان کی حدود میں کوئی کارروائی کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنے قبائلی علاقے باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔

بیان کے مطابق اس آپریشن کے بارے میں افغان سیکیورٹی فورسز کو مسلسل آگاہ رکھا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG