رسائی کے لنکس

دہشت گرد افغان پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں، احسن اقبال


وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو آج بھی افغان جنگ کے مضمرات کا سامنا ہے اور ان کے بقول بین الاقوامی برادی کی طرف سے خطے میں امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجہ سے ان کا ملک یہ بوجھ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔

منگل کو انسداد دہشت گردی سے متعلق اسلام آباد مین منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پر افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کو سست رو کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

"بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کو آج جن حالات کا سامنا ہے وہ بحیثیت مجموعی بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس خطے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکامی کی وجہ سے ہیں۔ لہذا صورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے اور الزام تراشی کی۔"

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے سب کو مل کر تعاون کے مواقع تلاش کرنا ہوں گے جس میں اپنے اپنے وسائل کو بروئے کار لایا جا سکے۔

افغان پناہ گزین پشاور میں اپنے اندراج کے لیے متعلقہ دفتر کے باہر جمع ہیں (فائل فوٹو)
افغان پناہ گزین پشاور میں اپنے اندراج کے لیے متعلقہ دفتر کے باہر جمع ہیں (فائل فوٹو)

تین دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان میں لاکھوں افغان شہری بطور پناہ گزین مقیم ہیں اور حکومت نے ان کے قیام کی مدت میں 30 جون تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

حالیہ برسوں میں ان پناہ گزینوں کی ایک قابل ذکر تعداد اپنے وطن واپس جا چکی ہے لیکن افغانستان میں ناموافق حالات کی وجہ سے واپس جانے والوں کو وہاں مختلف مشکلات کا سامنا کرنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے اپنے ہاں دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کی منظم موجودگی کو ختم کر دیا ہے لیکن اس کے بقول افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں کو دہشت گرد پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں ملک میں ان پناہ گزینوں کی موجودگی سے اس کے لیے ان کیمپوں میں کارروائی مشکل ہے لہذا وہ جلد از جلد ان افغانوں کی باعزت اور رضاکارانہ واپسی کا خواہاں ہے۔

انسداد دہشت گردی کے اس بین الاقوامی فورم میں ملکی و بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین شریک ہیں جو دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس ضمن میں مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG