رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف پاک افغان تعاون اہم ہے: خواجہ آصف


پاکستان کے وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل مل کر ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑ سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جمعرات کو اسلام آباد میں کابل کے سفارت خانے کا دورہ کیا اور افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی ایک مرتبہ پھر شدید مذمت کی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’’کوئی تیسرا فریق آ کر سہولت کاری تو کر سکتا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ ہماری (پاکستان اور افغانستان کی) جنگ ہے اور ہم ہی نے اس کو لڑنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی افغانستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں افغانستان کے انٹیلی ایجنسی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے سربراہ معصوم ستانکزئی اور افغان وزیرِ داخلہ ویس برمک شامل تھے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ افغان وفد سے بات چیت سود مند رہی۔

’’افغان وفد کا یہاں آنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر اس مسئلے (دہشت گردی) کے خلاف کوششیں کرنا چاہتے ہیں، تاکہ دہشت گرد قوتوں کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

اعلیٰ افغان عہدیداروں نے پاکستان کا دورہ ایسے وقت کیا جب گزشتہ ہفتے ہی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو مہلک حملے کیے گئے جن میں لگ بھگ 115 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اُدھر جمعرات کو کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق افغان عہدیداروں نے کابل میں حالیہ دہشت گرد حملوں سے متعلق شواہد پاکستان کے حوالے کیے کہ ان حملوں میں پاکستان میں موجود دہشت گرد ملوث تھے۔

پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک بشمول افغانستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG