رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی جانب سے افغان درآمد پر ڈیوٹی میں کمی اور 40 ہزار ٹن گندم کا تحفہ


کابل میں افغان صدر اشرف غنی، پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ 6 اپریل 2018

پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ مثبت رہا۔ دورہ کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کو مذاكرات کی دعوت دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کردیا۔

دونوں ممالک میں سویلین قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کرنے اتفاق ہوگیا ہے۔

افغان مصنوعات کی درآمد پر عائد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کردی گئی۔ پاکستان نے افغان بھائیوں کے لئے 40 ہزار ٹن گندم بطور تحفہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔

وزیراعظم آفس کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ کابل مثبت رہا ۔ وزیراعظم نے افغان صدر اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغان متحارب گروپوں کے سربراہان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل میں قیام امن کے لئے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور انسداد دہشت گردی پر بھی بات کی گئی جبکہ باہمی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان پلان آف ایکشن کے بہتر نتائج مرتب ہورہے ہیں۔ دونوں ممالک نے پلان کے تحت پانچ ورکنگ فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افغان حکومت کی جانب سے افغان طالبان کو مذاكرات کی دعوت دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو اس دعوت مثبت جواب دیتے ہوئے فوری طور پر افغان مفاہمتی عمل کا حصہ بننا چاہیئے کیونکہ اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔

پاک افغان راہنماؤں کی ملاقات میں دونوں ممالک نے ایک بار پھر اپنی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور باہمی تنازعات بھی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

اعلامیے میں ایک بڑی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سویلین قیدیوں کے تبادلے معاہدے کی تفصیل طے کرنے کے لئے بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم نے افغانستان کے لئے چالیس ہزار ٹن گندم بطور تحفہ دینے کے اعلان کے ساتھ افغان معیشت کو سہارا دینے کے لئے افغان مصنوعات پر عائد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کر دی۔

اعلامیہ کے مطابق اقتصادی کمشن اجلاس میں ریل روڈ گیس اور توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان منصوبوں سے پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے ساتھ مزید جڑ جائیں گے۔ ملاقات میں چمن قندهار ریلوے لائن، پشاور کابل موٹر وے اور دیگر منصوبوں پر جلد عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم عباسی نے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اس دورہ کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد دونوں فریقین ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کی وجہ سےکشیدگی میں اضافہ ہوا ، تاہم اب وزیر اعظم عباسی اور اس سے قبل پاکستانی فوج کے سربراہ کے دوروں اور دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان تواتر کے ساتھ اجلاسوں سے تعلقات میں بہتری آنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے أفغان معیشت کو مدد دینے اور دوطرفہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سے دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG