رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کا اپنے یوم آزادی پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی


فائل فوٹو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے آج بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جموں اور کشمیر کے متنازعہ علاقے کے بارے میں حالیہ اقدام سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

عمران خان کا یہ بیان پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یوم آزادی ہمارے لیے خوشی کا ایک بڑا موقع ہے۔ تاہم آج ہم جموں اور کشمیر میں اپنے کشمیری بھائیوں کی صورت حال پر افسردہ ہیں جنہیں بھارتی ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ میں کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

عمران خان آج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچے جہاں انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں موجود کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ بقول ان کے بھارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کشمیر کے معاملے پر غور کرنے کے بارے میں فوری طور پر ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اس اقدام سے دنیا بھر میں امن کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

سیکورٹی کونسل کے صدر اور پولینڈ کے وزیر خارجہ جیکیک زاپوٹووچ نے تصدیق کی ہے کہ کونسل کو پاکستان کی طرف سے منگل کے روز مراسلہ موصول ہوا ہے اور کونسل اس بارے میں غور کر کے جلد مناسب فیصلہ کرے گی۔ زاپوٹووچ اگست کے لیے سلامتی کونسل کے صدر ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کشمیری ترقی اور خوش حالی کے حق دار ہیں اور بھارتی آئین کی شقوں 370 اور 35A کی وجہ سے وہ اب تک اس سے محروم رہے ہیں۔

انہوں نے کشمیریوں کو یقین دلایا ہے کہ ان شقوں کے خاتمے کے بعد کشمیر میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار میں اضافہ ہو گا۔

توقع ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری سیکورٹی اور کرفیو کی پابندیاں کم سے کم جمعرات تک جاری رہیں گی جب بھارت اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے بارے میں 1948 اور 1950 کی دہائی کے دوران متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں کہا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے سے کیا جائے۔ ان قراردادوں میں سے ایک میں کہا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان ایسے بیانات دینے اور ایسے اقدامات کرنے سے گریز کریں جن سے صورت حال مزید کشیدگی کی شکار ہو۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بھارت کا یوم آزادی ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منائے گا اور اس روز کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔

ادھر بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے کے بعد آج سری نگر کے کشمیر سٹیڈیم میں بھارت کے یوم آزادی کے حوالے سے پریڈ کے لیے فل ڈریس ریہرسل ہوئی، جس میں فوجی، نیم فوجی اور پولیس کے دستوں نے حصہ لیا۔ یہ حالیہ بھارتی اقدام کے بعد کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

اس دوران کشمیر میں مسلسل نویں روز بھی سیکورٹی اور کرفیو کی مکمل پابندی عائد رہی۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے ڈریس ریہرسل کے دوران سٹیڈیم کی سیکورٹی کے فرائض انجام دیے۔ ایک بھارتی ٹیلی ویژن چینل کی ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پریڈ کے دوران ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG