رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر کے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس اور نقل مکانی


وادی نیلم میں گھروں کے قریب ایک گرنے والا ایک کلسٹر بم ۔ 4 اگست 2019

بھارتی کنٹرول کے کشمیر کی امتیازی حثیت کے خاتمے کے بعد ہمسایہ جوہری ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے کنڑول لائن کے دونوں جانب آباد کشمیریوں میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جنگ بندی لائن کے قریبی علاقے نکیال کے رہائشی نعمان نذیر نے بتایا کہ بھارتی کشمیر کی صورت حال کی وجہ سے ہماری عید بھی پریشانی میں گزری۔ اس بار تو لوگوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارک بھی نہیں دی۔

انہوں نے بتایا کہ عید سے ایک روز پہلے گولہ باری ہوئی تھی، جس کی وجہ سے عید کا دن بھی خوف اور پریشانی میں گزرا۔

سرحدی قصبے چکوٹھی کے محمد فاروق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہم خوف اور پریشانی کا شکار ہیں، کیونکہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہم بنکر نہیں بنا سکے اور نہ حکومت کوئی مدد کر رہی ہے۔ گھر چھوڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتے، کیونکہ مظفرآباد اور ھٹیاں میں کرائے پر مکان لینا مشکل ہے۔

چکوٹھی کے 67 سال تاجر محمد بشیر اعوان کا کہنا ہے کہ صورت حال غیر یقینی ہے۔ کچھ پتا نہیں کہ کیا ہو گا۔

تاہم سرحد کے قریب آباد کئی صاحب حیثیت لوگوں نے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔

نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق وادی نیلم سے ہے، جہاں کئی ماہ کے وقفے کے بعد 30 جولائی کو دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا تھا۔

اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے والوں میں اکثریت ایسے خاندانوں کی ہے جن کے پاس مظفرآباد یا پاکستان کے مختلف شہروں میں ذاتی گھر یا رہائش کا بندوبست موجود ہے۔

وادی نیلم سے اسلام آباد جانے والے ایک خاندان کے سربراہ مدثر محمود نے بتایا کہ 30 جولائی کی گولہ باری سے وادی نیلم میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جن لوگوں کے پاس دوسرے علاقوں میں گھر ہیں، وہ جا رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس سال فروری میں بھارتی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے کے بعد صورت حال جنگ کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحد کے اندر جا کر حملے بھی کیے تھے۔

اور اب نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کرتے ہوئے متنازعہ ریاست کو بھارت کا حصہ بنائے جانے کے بعد ایک بار پھر دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں اور سرحدوں پر تناؤ بڑھ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG