رسائی کے لنکس

logo-print

کیپ ٹاؤن پچز پر پاکستان و جنوبی افریقہ کے کوچز میں تنازع


فائل فوٹو

گبسن کا کہنا تھا کہ عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی کی حیثیت سے یہ آئی سی سی پر منحصر ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے پچز کا معیار طے کرے۔

کیپ ٹاؤن کی پچز پر پاکستان اور جنوبی افریقہ کے کوچز آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے سینچورین اور کیپ ٹاؤن کی پچز پر اعتراض کے بعد جنوبی افریقہ کے کوچ اوٹس گبسن پچز کے دفاع میں سامنے آگئے۔

گبسن نے نیو لینڈز کی وکٹ سے متعلق مکی آرتھر کے بیان کو "کچھ عجیب سا" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وکٹ پر ڈوپلیسی نے سینچری اسکور کی اور پاکستانی فاسٹ بالرز صرف چار وکٹیں لے سکے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سینچورین اور کیپ ٹاؤن کی پچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وکٹیں ٹیسٹ میچوں کے لیے آئیڈیل نہیں ہیں اور وہ بہت مایوس ہوئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ وکٹیں منصفانہ اور متوازن مقابلے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔

مکی آرتھر
مکی آرتھر

مکی آرتھر کے اس بیان پر جنوبی افریقہ کے کوچ کا کہنا تھا، "اُس روز ڈوپلیسی نے شاندار سینچری بنائی۔ طویل عرصے بعد میں نے ایسی بہترین اننگز دیکھی اور پاکستانی فاسٹ بالرز نے صرف چار وکٹیں لیں۔"

تاہم گبسن نے تسلیم کیا کہ وکٹ تھوڑی غیر یکساں ضرور تھی اور ان کے بقول "میں اس سے انکار نہیں کر رہا۔ لیکن ڈوپلیسی نے دکھایا کہ اُس پچ پر بیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ شان مسعود نے بھی اُس پر رنز اسکور کیے۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ یہ بدترین پچ تھی۔ زیادہ دور کی بات نہیں، ہمارے دورۂ سری لنکا میں وہاں بہت زیادہ خراب وکٹیں تھیں۔"

پروٹیز کوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ "میں نے پچز تیار نہیں کیں۔ لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہوم پچز ہماری ٹیم کے لیے مددگار ہوں گی۔"

گبسن نے کہا کہ عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی کی حیثیت سے یہ آئی سی سی پر منحصر ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے پچز کا معیار طے کرے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کے کپتان ڈوپلیسی کا کہنا ہے کہ "ہم نے کبھی ایسی مضحکہ خیز پچز کا نہیں کہا۔ صرف یہ کہا تھا کہ ایسی پچز ہوں جن میں کچھ پیس اور باؤنس ہو۔ لہٰذا جب کچھ سیم موومنٹ، پیس اور باؤنس ہو تو خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔ اس کی بہترین مثال باووما ہے جس نے ثابت کیا کہ توجہ اور اچھی تیکنیک کے ساتھ کھیلیں تو ایسی مشکل وکٹ پر بھی رنز بنائے جاسکتے ہیں۔"

واضح رہے کہ بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کے باعث پاکستان کو سینچورین ٹیسٹ میں 6 وکٹوں اور کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں 9 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دو ٹیسٹ میچز کی چار اننگز میں پاکستان ٹیم کا اسکور بالترتیب 181، 190،177 اور 294 رہا جب کہ کسی بھی بیٹسمین کا سب سے زیادہ انفرای اسکور 88 رنز تھا جو اسد شفیق نے کیا۔

جنوبی افریقہ کا کسی بھی اننگز میں سب سے زیادہ اسکور 431 رنز رہا۔ لیکن کپتان ڈوپلیسی ہی سیریز میں اب تک وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے سینچری بنائی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG