رسائی کے لنکس

logo-print

مسعود اظہر پاکستان میں ہیں اور علیل ہیں: شاہ محمود


پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا ہے کہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستان میں ہیں اور شدید علیل ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے پاس اگر مسعود اظہر کے خلاف ثبوت ہیں تو فراہم کرے۔ یہ ثبوت پاکستانی عدالتوں میں پیش کئے جائیں گے اور عدالتیں ہی اس پر فیصلہ کریں گی۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این ' کو دئیے گئے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کے لیے تیار ہیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی ختم کی جا سکے۔

کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعوداظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈلوانے کی بھارتی کوششوں کے سوال پر پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے پاس اگر ٹھوس شواہد ہیں تو ہمیں دیں ہم خود ان کا جائزہ لیں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے سرگرم ہے۔

مولانا مسعود اظہر کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت ان کے خلاف ایسے ٹھوس ثبوت دے جو پاکستان کی آزاد عدالتوں کو قابل قبول ہوں اور ہم عوام کو بھی قائل کرسکیں کہ فلاں آدمی کے خلاف یہ ثبوت ہے اور ہم کاروائی کر رہے ہیں۔

مولانا مسعود اظہر کی پاکستان میں موجودگی کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں اوردستیاب معلومات کے مطابق وہ اتنے بیمار ہیں کہ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے۔

دوسری طرف خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی ہے۔

واضع رہے کہ اس سے پہلے متعدد بار مسعود اظہر کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی بین الاقوامی فہرست میں شامل کرانے کی تجویز پیش کی جا چکی جو چین کی مخالفت کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس بار چین کیا موقف اپنائے گا۔

جیشِ محمد پہلے ہی سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ان گروپس میں شامل ہے جن پر پابندی عائد ہے، تاہم مسعود اظہر کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG