رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کونسل کی جانب سے پلوامہ حملے کی مذمت


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر (فائل)

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خود کش حملے کی مذمت کی ہے اور حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے یہ بیان جمعرات کو حملے کے پورے ایک ہفتے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں۔

البتہ بیان میں شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کا ذکر موجود ہے جس نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے بھارتی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے اس حملے میں بھارت کی وفاقی پولیس کے لگ بھگ 50 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت نے حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرایا ہے اور اس کےخلاف تجارت کی معطلی سمیت کئی اقدامات کیے ہیں۔ تاہم پاکستان حملے میں ملوث ہونے کا الزام رد کرچکا ہے۔

جمعرات کو جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں سلامتی کونسل نے پلوامہ حملے کو "بھیانک اور بزدلانہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کے ارکان اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس کی ذمہ داری بیان کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کی سازش کرنے والوں، اس میں ملوث افراد، اس کے لیے وسائل فراہم کرنے والوں اور تعاون کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔

بیان کے مطابق کونسل تمام ملکوں پر زور دیتی ہے کہ وہ واقعے کے ذمے داران کے خلاف کارروائی کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت عائد ذمہ داریوں کے مطابق بھارت کی حکومت اور دیگر اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کونسل سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی سراسر مجرمانہ فعل ہے اور چاہے اس کا محرک کچھ بھی ہو، ایسی کارروائیوں کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔

بیان کے مطابق دہشت گردی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے جس کا دنیا کے تمام ملکوں کو ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کے مطابق سلامتی کونسل نے پلوامہ حملے سے متعلق یہ بیان کونسل کے ارکان کے مابین تفصیلی صلاح مشورے کے بعد جاری کیا ہے۔

اخبار کے مطابق بیان کے متن پر چین کو تحفظات تھے اور وہ اس کے اجرا سے قبل اس پر مزید غور و خوض چاہتا تھا جس کی وجہ سے بیان تاخیر کا شکار ہوا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے معاملے پر بھارت اور دیگر فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔

بھارت ماضی میں بارہا مسعود اظہر کو سلامتی کونسل سے دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش کرچکا ہے لیکن چین نے بھارت کی یہ کوشش ویٹو کردی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG